بشکیک: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کے وزرائے خارجہ کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک پہنچ گئے، جہاں رکن ممالک کے وزرائے خارجہ اہم علاقائی اور بین الاقوامی امور پر مشاورت کر رہے ہیں۔
کرغزستان کے وزیر خارجہ نے اجلاس کی میزبانی کرتے ہوئے ایرانی وزیر خارجہ کا استقبال کیا، جبکہ اس موقع پر شنگھائی تعاون تنظیم کے دیگر رکن ممالک کے اعلیٰ سفارتی نمائندے بھی موجود تھے۔سالانہ اجلاس میں چین، روس، پاکستان، بھارت، ایران سمیت دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ شریک ہیں، جہاں خطے کی سلامتی، اقتصادی تعاون، انسداد دہشت گردی، علاقائی روابط، تجارتی شراکت داری اور باہمی تعاون کے فروغ سمیت مختلف اہم موضوعات پر تبادلہ خیال کیا جا رہا ہے۔اجلاس کے موقع پر عباس عراقچی نے ایک گروپ تصویر بھی جاری کی، جس میں وہ چین کے وزیر خارجہ وانگ ای، روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ کے ہمراہ اپنے اپنے قومی پرچموں کے سامنے موجود ہیں۔شنگھائی تعاون تنظیم ایک اہم علاقائی اور کثیرالجہتی فورم ہے، جس کا مقصد رکن ممالک کے درمیان باہمی اعتماد کو فروغ دینا، اقتصادی تعاون کو مضبوط بنانا اور خطے کو درپیش مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تعاون کو وسعت دینا ہے۔
اگرچہ تنظیم علاقائی سلامتی اور استحکام کے معاملات پر بھی توجہ مرکوز رکھتی ہے، تاہم یہ کسی فوجی یا دفاعی اتحاد کی حیثیت نہیں رکھتی۔تجزیہ کاروں کے مطابق خطے میں جاری جغرافیائی و سیاسی کشیدگی کے تناظر میں شنگھائی تعاون تنظیم کا یہ اجلاس غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے، کیونکہ اس کے ذریعے رکن ممالک کے درمیان سفارتی روابط، اقتصادی تعاون اور علاقائی استحکام کے لیے مشترکہ حکمت عملی کو مزید مضبوط بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔