عورت کا بااختیار ہونا: آج کے دور کی ضرورت

ناز خان، جنوبی افریقہ
آج کے دور میں ایک عورت کا بااختیار اور خودمختار ہونا صرف ایک انتخاب نہیں رہا، بلکہ یہ وقت کی ضرورت بن چکی ہے۔  عورتیں اپنے گھر، بچوں اور خاندان کی ذمہ داری اٹھاتی ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم اپنی تعلیم، اپنی مہارت اور اپنی پہچان پر کام کریں۔ ہمیں اپنے گھر والوں سے یہ سپورٹ ملنی چاہیے کہ ہم پڑھیں، سیکھیں اور اپنے پاؤں پر کھڑی ہوں۔آج مہنگائی کا دور ہے۔ زندگی کے اخراجات بہت بڑھ گئے ہیں۔ صرف مرد کا کمانا کافی نہیں رہا۔ اس کے ساتھ ساتھ ہم اکثر دیکھتے ہیں کہ کم عمری میں بیوہ ہو جانے والی خواتین کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ کبھی شوہر کے انتقال کے بعد، کبھی بیماری کی وجہ سے، عورت پر پورے گھر کی ذمہ داری آ جاتی ہے۔ بعض اوقات انہیں اپنے سسرال یا میکے پر بوجھ بننا پڑتا ہے اور وہاں عزت بھی نہیں ملتی۔اس لیے میرا مشورہ ہر عورت کے لیے یہ ہے:  اللہ نے ہر عورت کو کوئی نہ کوئی ہنر اور صلاحیت دے کر پیدا کیا ہے۔ چاہے آپ گھر میں رہنے والی خاتون ہوں، طالبہ ہوں یا کام کرنے والی — اپنے ہنر کو نکھاریں۔ مزید تعلیم حاصل کریں۔ کوئی کورس کریں۔ کوئی چھوٹا کاروبار سیکھیں۔تاکہ کل اگر خدانخواستہ شوہر بیمار ہو جائیں، دنیا سے چلے جائیں، یا گھر کی ذمہ داری آپ پر آ جائے — تو آپ اپنے بچوں، والدین اور سسرال کی ذمہ داری خود اٹھا سکیں۔ 
آپ اپنے شوہر کا ہاتھ بٹا سکیں۔ آپ کسی پر بوجھ نہ بنیں، بلکہ دوسروں کے لیے سہارا بنیں۔خودمختار عورت ہی ایک مضبوط گھر اور مضبوط معاشرہ بناتی ہے۔ آئیے ہم سب عورتیں آج سے عہد کریں کہ ہم اپنے لیے، اپنے بچوں کے لیے اور اپنی عزت کے لیے خود کفیل بنیں گی۔ ان شاء￿  اللہ۔