نئے صوبے یا بااختیار ضلعی حکومتیں؟

میاں شہزاد طفیل
پاکستان میں نئے صوبوں کے قیام کی بحث گزشتہ کئی دہائیوں سے ملکی سیاست کا اہم موضوع رہی ہے۔ جنوبی پنجاب، بہاولپور، ہزارہ اور شہری سندھ سمیت مختلف علاقوں سے نئے صوبوں کے مطالبات سامنے آتے رہے ہیں۔ ان مطالبات کی بنیاد احساسِ محرومی، وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم، آبادی میں اضافہ اور انتظامی مشکلات کو قرار دیا جاتا ہے۔ تاہم بنیادی سوال آج بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ کیا پاکستان کے مسائل کا حقیقی حل نئے صوبوں کے قیام میں ہے یا اختیارات کو نچلی سطح تک منتقل کرکے مضبوط ضلعی حکومتوں کے قیام میں؟

نئے صوبوں کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ بڑے انتظامی یونٹس کو تقسیم کرنے سے حکومتی امور میں بہتری آتی ہے، ترقیاتی منصوبوں کی رفتار تیز ہوتی ہے، دور دراز علاقوں کو حکومتی توجہ ملتی ہے اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا ہوتے ہیں۔ مقامی سطح پر روزگار، صنعت، تعلیم اور صحت کے شعبوں میں ترقی کے امکانات بھی بڑھتے ہیں۔ لیکن دوسری جانب ایک نئے صوبے کا قیام اربوں روپے کے اضافی اخراجات کا تقاضا کرتا ہے۔ نئی اسمبلی، سیکریٹریٹ، گورنر ہاؤس، وزیراعلیٰ ہاؤس، ہائی کورٹ، پولیس، سرکاری دفاتر، رہائشی کالونیاں اور ہزاروں نئی سرکاری آسامیاں قائم کرنا پڑتی ہیں، جن کے قیام اور بعد ازاں ان کے سالانہ اخراجات قومی خزانے پر مستقل بوجھ بن جاتے ہیں۔ ایسے وقت میں جب پاکستان مالی خسارے، قرضوں، مہنگائی اور محدود ترقیاتی وسائل جیسے سنگین معاشی مسائل سے نبرد آزما ہے، یہ سوال اہمیت اختیار کر جاتا ہے کہ کیا اتنے بڑے اخراجات کا متبادل کوئی زیادہ مؤثر راستہ موجود نہیں؟

یہی وہ مقام ہے جہاں مضبوط ضلعی حکومتوں کا تصور سامنے آتا ہے۔ اگر یہی وسائل صوبائی سطح پر نئے انتظامی ڈھانچے قائم کرنے کے بجائے اضلاع، تحصیلوں اور یونین کونسلوں کو منتقل کیے جائیں، انہیں مالی، انتظامی اور قانونی خودمختاری دی جائے تو عوام کو صحت، تعلیم، صاف پانی، نکاسی آب، سڑکوں، زراعت، شہری منصوبہ بندی اور بلدیاتی خدمات ان کی دہلیز پر میسر آ سکتی ہیں۔ فیصلے مقامی سطح پر ہوں گے، منصوبے مقامی ضروریات کے مطابق بنیں گے اور منتخب نمائندے براہِ راست عوام کے سامنے جوابدہ ہوں گے۔

پاکستان کا آئین بھی اسی سوچ کی تائید کرتا ہے۔ آئین کے آرٹیکل 140-A کے تحت ہر صوبہ منتخب بلدیاتی حکومتیں قائم کرنے اور انہیں سیاسی، انتظامی اور مالی اختیارات منتقل کرنے کا پابند ہے۔ بدقسمتی سے اس آئینی تقاضے پر مکمل اور مستقل عملدرآمد نہیں ہو سکا۔ یہی وجہ ہے کہ مقامی حکومتیں اکثر صوبائی حکومتوں پر انحصار کرتی ہیں اور عوام کے روزمرہ مسائل کے حل میں مطلوبہ کردار ادا نہیں کر پاتیں۔

وسائل کی تقسیم کا معاملہ بھی اسی بحث سے جڑا ہوا ہے۔ آئین کے آرٹیکل 160 کے تحت قائم قومی مالیاتی کمیشن (NFC Award) وفاق اور صوبوں کے درمیان مالی وسائل تقسیم کرتا ہے، جبکہ صوبوں کے اندر اضلاع کو وسائل کی تقسیم صوبائی مالیاتی کمیشن (PFC) کے ذریعے ہونی چاہیے۔ حقیقت یہ ہے کہ کئی صوبوں میں پی ایف سی کا نظام مؤثر انداز میں فعال نہیں، جس کی وجہ سے این ایف سی کے ذریعے صوبوں کو ملنے والے وسائل کی مناسب مقدار اضلاع تک نہیں پہنچ پاتی۔ اگر این ایف سی کے ساتھ ساتھ پی ایف سی کو بھی مؤثر اور فعال بنایا جائے تو مقامی ترقی کی رفتار نمایاں طور پر بہتر ہو سکتی ہے۔

سن 2010ء￿  میں ہونے والی 18ویں آئینی ترمیم کے ذریعے وفاق کے متعدد اختیارات صوبوں کو منتقل کیے گئے، جسے پاکستان کی آئینی تاریخ کا اہم سنگ میل قرار دیا جاتا ہے۔ تاہم ایک بنیادی سوال یہ بھی ہے کہ کیا صوبوں نے یہ اختیارات آگے اضلاع اور بلدیاتی اداروں کو منتقل کیے؟ عملی طور پر اختیارات کا بڑا حصہ صوبائی دارالحکومتوں تک محدود رہا، جس کے باعث عام شہری آج بھی مقامی سطح پر مؤثر حکمرانی کے ثمرات سے مکمل طور پر مستفید نہیں ہو سکا۔

ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ اگر نئے صوبے تو قائم کر دیے جائیں لیکن اختیارات صرف نئے صوبائی دارالحکومت تک محدود رہیں تو ایک نئی صوبائی سیاسی اشرافیہ وجود میں آ سکتی ہے۔ اس صورت میں ممکن ہے کہ مقامی بااثر سیاست دان مزید طاقتور ہو جائیں جبکہ عوامی حلقوں کی مؤثر نمائندگی اور عام شہری کی آواز نسبتاً کمزور پڑ جائے۔ اس لیے اصل ضرورت صرف نئے صوبے بنانے کی نہیں بلکہ اختیارات کو گاؤں، یونین کونسل، تحصیل اور ضلع کی سطح تک منتقل کرنے کی ہے تاکہ اقتدار کا حقیقی مرکز عوام بن سکیں۔

دنیا کے کئی ممالک اس حوالے سے قابلِ تقلید مثالیں پیش کرتے ہیں۔ جرمنی میں بلدیاتی اداروں کو آئینی تحفظ حاصل ہے اور وہ تعلیم، شہری منصوبہ بندی اور بنیادی سہولیات کے حوالے سے وسیع اختیارات رکھتے ہیں۔ ترکی کے میٹروپولیٹن بلدیاتی نظام نے بڑے شہروں میں شہری خدمات کو مؤثر بنایا ہے۔ ملائیشیا میں مقامی حکومتیں شہری ترقی، صفائی اور تعمیرات کے شعبوں میں فعال کردار ادا کرتی ہیں، جبکہ بھارت میں پنچایتی راج نظام نے دیہی سطح پر عوامی شمولیت اور ترقیاتی منصوبہ بندی کو فروغ دیا ہے۔ ان تمام مثالوں سے یہ سبق ملتا ہے کہ ترقی صرف نئی انتظامی اکائیاں بنانے سے نہیں بلکہ مقامی حکومتوں کو وسائل، اختیارات اور جوابدہی دینے سے حاصل ہوتی ہے۔

پاکستان کو نئے صوبوں کی ضرورت ہے یا نہیں، اس کا فیصلہ سیاسی نعروں یا انتخابی وعدوں کے بجائے قومی مفاد، معاشی استعداد اور انتظامی حقائق کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔ اگر کسی خطے میں نئے صوبے کی واقعی ضرورت ہو تو اس پر سنجیدہ قومی اتفاقِ رائے پیدا کیا جا سکتا ہے، لیکن اس 
کے ساتھ آرٹیکل 140-A پر مکمل عملدرآمد، صوبائی مالیاتی کمیشن کا فعال نظام اور بلدیاتی اداروں کی حقیقی خودمختاری بھی ناگزیر ہونی چاہیے۔

ترقی کا راز صرف نئے صوبے بنانے میں نہیں بلکہ اختیارات، وسائل اور فیصلہ سازی کو عوام کی دہلیز تک پہنچانے میں ہے۔ ایک مضبوط ضلع، ایک خودمختار بلدیہ اور ایک جوابدہ مقامی حکومت شاید پاکستان کو وہ مضبوط معیشت، مؤثر انتظامیہ اور مستحکم جمہوریت دے سکتی ہے جس کا خواب ہم گزشتہ کئی دہائیوں سے دیکھ رہے ہیں۔