بااختیار بلدیاتی نظام بااختیار عوام

محمد عارف صدیقی 
بچپن کے دنوں کی بات یاد آ رہی ہے کہ ہم گلی محلوں میں آواز لگایا کرتے تھے کہ "بلدیہ بلدیہ" بلدیہ والے آ گئے چیزیں سنبھالو صفائی کرو۔اور ہم بچے کبھی کبھی اسی بلدیہ کی صفائی مہم کا حصہ بھی بن جایا کرتے تھے اب آجکے بچے تو کیا جوان بھی بلدیہ کے نام سے بھی نابلد ہیں جہاں 10 دس اور 20 بیس سال بعد بھی بلدیاتی الیکشنز نہ ہوں گلی محلوں کی سطح پر بلدیاتی نمائندے نہ ہوں اگر کہیں ہوں بھی تو بے اختیار ہوں،کچھ کرنا بھی چاہیں تو یہ سمجھ کر کہ ہمیں سرکاری سرپرستی تو حاصل رہی نہیں اور بلدیاتی فنڈز تو جیسے ناپید ہیں تو ان حالات میں عوام کا کوئی پرسان حال نہیں ہوتا۔حالانکہ یہی وہ کام کی بنیادی سطح ہے جہاں بلدیاتی ادارے نہ صرف موجود ہوں بلکہ مضبوط اور بااختیار بھی ہوں تو بیشتر عوامی مسائل جو گلی محلوں سے ہی شروع ہوتے ہیں ان بلدیاتی نمائندوں کے زریعے سے حل بھی ہو جائیں اور کمیونیکیشن گیپ بھی نہ رہے کیونکہ ایک عام فرد اپنے مسائل کے فوری اور آسان حل کیلئے ان بلدیاتی نمائندوں کے پاس ہی جا سکتا ہے یہی وہ بنیادی اکائی کا ادارہ ہے جسے پہلے پنچایت بھی کہا جاتا تھا اور اس پنچایت کی سرپرستی قصبے، ٹاؤن یا محلے کا کوئی دانا و بینا بزرگ کیا کرتا تھا جسکی بات سب کیلئے حرفِ آخر ہوتی تھی اور وہ مسائل گھریلو نوعیت کے ہوں یا عوامی ایشوز پر ،اسی پنچایت میں حل ہو جاتے تھے اب بلدیاتی نمائندوں کے مؤثر نہ ہونیکی وجہ سے یہی ایشوز فیملی کورٹس تک پہنچ جاتے ہیں لیکن تشنگی باقی رہتی ہے۔
تو بات ہو رہی تھی بلدیاتی الیکشنز کی جوکہ خاصا التوا کا شکار ہیں اور کوئی بھی صوبائی حکومت بلدیاتی انتخابات کراتی نظر نہیں آ رہی، حالانکہ یہ بلدیاتی ادارے کسی بھی ملک کیلئے سیاست میں نرسری کا کردار ادا کرتے ہیں یعنی ایک طرف یہ بلدیاتی ادارے مستقبل کے قومی سیاستدان تیار کرتے ہیں تو دوسری طرف عوام کو وہ بنیادی ڈھانچہ مہیا کرتے ہیں جس سے اس سطح کے مسائل کو فوری اور بآسانی حل کیا جا سکے اسی تناظر میں تو کہا جاتا ہے کہ مضبوط اور بااختیار عوام کی ضمانت ایک مستحکم اور بااختیار بلدیاتی نظام ہؤا کرتا ہے اگر ہم ترقی یافتہ ممالک کی صف بندی کریں تو وہاں بھی ہمیں ایک مضبوط و بااختیار بلدیاتی نظام نظر آئے گا ترکی اس نظام کی بہتریں مثال ہے جسکے موجودہ صدر رجب طیب اردگان شہر استنبول کے مئیر تھے جہاں سے انکے سیاسی کیریئر کا آغاز ہوا اور شہر کی ترقی کے ساتھ ساتھ وہ بھی بام عروج حاصل کرتے ہوئے ترکی کے صدر بنے اسی طرح لندن نیویارک جیسی مثالیں بھی ہمارے سامنے ہیں۔
لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس نقار خانے میں ڈھول کون بجائے ساری ہی جماعتیں اپنے سیاسی مفادات کیوجہ سے خاموش ہیں لیکن ایک توانا آواز انجینئر حافظ نعیم الرحمن کی صورت میں بحرحال ہمیں نظر آتی ہے جو مسلسل اس ایشو پر بات بھی کر رہے ہیں قومی سطح پر کانفرنسز کیساتھ ساتھ وہ اپنے متحرک کارکنان کے زریعے سے بلدیاتی انتخابات کروانے اور ناجائز بلدیاتی ایکٹ قانون کے خلاف صدائے احتجاج 
سڑکوں پر بھی بلند کر رہے ہیں عدالتی پیٹیشن کا حصہ بھی ہیں اور ایک پورا لائحہ عمل ترتیب دیا ہے جسمیں احتجاجی مظاہرے ،دھرنے اور عوامی ریفرنڈم بھی شامل ہے لیکن اس کے ساتھ ہی عوام میں ان بلدیاتی اداروں کے نظام اور انکے بااختیار ہونے کی اہمیت کو اجاگر کرنا بھی ان کے لائحہ عمل کا حصہ ہے یقیناً یہ جماعت اسلامی کا ایک خوش آئند فیصلہ ہے جسکے مثبت اثرات عوام تک پہنچیں گے.
بلدیاتی اداروں کو بحال کرنے اور اسکے نظام کو بااختیار بنانے کی جدوجھد جو جماعت اسلامی نے ملکی سطح پر اپنے ملک گیر دھرنوں اور بیداری عوام شعور سے شروع کی ہے اس عوامی حقوق کی تحریک میں دوسری جماعتوں بالخصوص اپوزیشن جماعتوں کو بھی اپنا مثبت کردار ادا کرنا چاہیے اور عوام بھی اس جدوجہد میں ضرور شریک ہوں تاکہ "بدل دو نظام" کا نعرہ جو حافظ نعیم الرحمن صاحب نے اپنے اجتماع عام مینار پاکستان میں لگایا تھا اسے کامیاب بنایا جا سکے اور صوبائی حکومت بھی بلدیاتی ایکٹ قانون کی ناپسندیدہ شقوں کو واپس لے تاکہ ایک مستحکم اور بااختیار بلدیاتی نظام وجود میں آ سکے جو عوام کے حقوق کی ضامن ہو اور انکی صحیح ترجمانی کر سکے اسی لئے تو کہتے ہیں کہ 
بااختیار بلدیاتی نظام بااختیار عوام۔
محمد عارف صدیقی 
لاہور