وزیراعظم نے سول سروس اصلاحات کے لیے اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دے دی

وزیراعظم نے سول سروس اصلاحات کے لیے اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دے دی

اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے ملک میں سول سروس کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے، بھرتی اور ترقی کے نظام کو بہتر بنانے، اور کارکردگی کا مؤثر جائزہ لینے کے لیے اصلاحات پر مشتمل ایک ماہ میں جامع سفارشات پیش کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے اعلیٰ سطح کی کمیٹی قائم کر دی۔

یہ فیصلہ اسلام آباد میں وزیر اعظم کی زیر صدارت سول سروسز اصلاحات کے حوالے سے منعقدہ اہم اجلاس میں کیا گیا۔ اجلاس میں سول سروسز کے موجودہ ڈھانچے، بھرتی، تربیت، ترقی، تنخواہوں اور کارکردگی جانچنے کے طریقہ کار پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔اجلاس کو بتایا گیا کہ خطے کے دیگر ممالک میں سول سروسز کے نظام کا پاکستان کے ساتھ تقابلی جائزہ لیا گیا ہے اور ان کی کامیاب اصلاحاتی مثالوں سے رہنمائی حاصل کی جا رہی ہے۔

وزیراعظم نے ہدایت کی کہ کمیٹی درج ذیل نکات پر سفارشات مرتب کرے:

میرٹ پر ٹیلنٹ کی بھرتی
ترقی کے لیے مخصوص اہداف پر مبنی کے پی آئیز (KPIs)
اے سی آر نظام کی بہتری یا اس کا متبادل مؤثر نظام
افسران کی استعداد کار بڑھانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کا جامع منصوبہ
وزیراعظم نے کہا کہ اصلاحات صرف وقتی تبدیلی نہیں بلکہ ایک پائیدار اور خودکار نظام کی بنیاد ہونی چاہئیں تاکہ سول سروس کو وقت کے ساتھ متواتر جدید تقاضوں کے مطابق ڈھالا جا سکے۔ انہوں نے زور دیا کہ عام شہری کی زندگی میں بہتری لانا اور سول سروسز کو عوام دوست بنانا اصلاحات کا بنیادی مقصد ہونا چاہیے۔اجلاس میں وفاقی وزراء احسن اقبال، اعظم نذیر تارڑ، احد خان چیمہ، سردار اویس لغاری، علی پرویز ملک، مشیران رانا ثناء اللہ، بلال اظہر کیانی، ہارون اختر، طارق باجوہ، ڈاکٹر جہانزیب خان، اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔اجلاس کے اختتام پر وزیراعظم نے متعلقہ وزارتوں کو مکمل تعاون فراہم کرنے کی ہدایت کی تاکہ ایک مہینے کے اندر جامع سفارشات مرتب کرکے اگلے مرحلے پر عملدرآمد شروع کیا جا سکے۔