غزہ میں جاری اسرائیلی محاصرے اور انسانی بحران نے مزید شدت اختیار کر لی ہے، غذائی قلت کے باعث مزید 6 فلسطینی دم توڑ گئے، جس کے بعد بھوک سے مرنے والوں کی تعداد 87 بچوں سمیت 133 ہو گئی۔
عالمی ادارہ خوراک کے مطابق، غزہ میں 5 لاکھ سے زائد افراد قحط جیسی صورتحال کا سامنا کر رہے ہیں۔اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے صرف 100 ٹرک امداد جمع کرنے کی اجازت دی ہے جبکہ ضرورت یومیہ کم از کم 500 ٹرک امداد کی ہے، جو کئی ماہ کی ناکہ بندی کے بعد بھی پوری نہیں ہو رہی۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق، فوجی آپریشن میں وقفے کے اعلان کے باوجود اسرائیلی حملے جاری ہیں۔ گزشتہ 24 گھنٹوں میں مزید 63 فلسطینی شہید ہوئے، جن میں 34 امداد کے متلاشی شامل ہیں۔اسرائیلی فوج کی جانب سے غزہ کی بستیاں ملیا میٹ کرنے کا سلسلہ جاری ہے جبکہ اسرائیلی میڈیا نے تباہ حال خان یونس اور بیت ہنون کے مناظر بھی جاری کر دیے ہیں۔