ایئرایشیا کی پرواز میں مسافروں کے درمیان شدید جھگڑا، ویڈیو وائرل، حکام کا نوٹس

ایئرایشیا کی پرواز میں مسافروں کے درمیان شدید جھگڑا، ویڈیو وائرل، حکام کا نوٹس

ویب ڈیسک: ایئرایشیا X کی کوالالمپور سے چینگدو جانے والی پرواز میں اُس وقت شدید ہنگامہ آرائی دیکھنے میں آئی جب مسافروں کے درمیان ایک معمولی زبانی تکرار اچانک شدید جھگڑے میں تبدیل ہو گئی۔

 واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہے جس پر عوامی ردِعمل اور چینی حکام کی جانب سے نوٹس بھی سامنے آیا ہے۔

  واقعے کی تفصیل
بین الاقوامی ذرائع، ڈیلی میل اور نیویارک پوسٹ کے مطابق یہ واقعہ فلائٹ D7326 پر پیش آیا، جو کہ شام 6:11 بجے کوالالمپور انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے روانہ ہوئی اور رات 10:13 بجے چین کے تیانفو انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر اتری۔ پرواز میں ایئربس A320 استعمال کی گئی تھی۔

  جھگڑے کی وجہ کیا بنی؟
عینی شاہدین کے مطابق:پرواز کے دوران جہاز کی روشنیاں مدھم ہونے پر ایک مرد مسافر نے قریبی بیٹھی خواتین کو خاموش رہنے کی درخواست کی۔خواتین نے اس درخواست کو نظر انداز کرتے ہوئے بات چیت جاری رکھی، جس پر مرد مسافر نے ان پر "بیوقوف" اور "چپ رہو" جیسے تضحیک آمیز الفاظ استعمال کیے۔یہی جملے جھگڑے کا پیش خیمہ بنے۔

  وائرل ویڈیو میں کیا دیکھا گیا؟
وائرل ویڈیو میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ:سبز لباس اور سفید بیس بال کیپ پہنے ایک خاتون اپنی سیٹ سے اُٹھ کر مرد مسافر پر حملہ آور ہوئیں۔خاتون نے نہ صرف زبانی بدتمیزی کی بلکہ گھونسے مارنے کی کوشش بھی کی۔مرد مسافر نے کھانے کی ٹرے کو ڈھال کے طور پر استعمال کر کے اپنا دفاع کیا۔اس دوران ایک اور خاتون اور اُن کی ماں بھی جھگڑے میں شامل ہو گئیں اور مسافر پر مزید حملے کیے۔
  فضائی عملے کی بروقت مداخلت
صورتحال کے بگڑنے پر:ایئرہوسٹس اور کیبن عملے نے فوراً مداخلت کرتے ہوئے مسافروں کو علیحدہ کیا۔تمام ملوث افراد کو الگ سیٹوں پر منتقل کر کے حالات پر قابو پایا گیا۔پرواز بلا تعطل اپنی منزل پر پہنچی تاہم مسافروں میں بے چینی دیکھنے میں آئی۔
  حکام کی کارروائی کا امکان
اگرچہ عملے نے پرواز کے دوران معاملہ سنبھال لیا، لیکن:ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد چینی حکام نے واقعے کا نوٹس لیا ہے۔حکام کی جانب سے جھگڑے میں ملوث مسافروں کے خلاف مزید تفتیش کی جا سکتی ہے۔ذرائع کے مطابق اس قسم کے واقعات نہ صرف فضائی تحفظ کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں بلکہ متعلقہ افراد کو قانونی نتائج کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔

  ایئرایشیا کا ردعمل
تاحال ایئرایشیا کی جانب سے اس واقعے پر کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا گیا، تاہم کمپنی ذرائع کا کہنا ہے کہ مسافروں کی حفاظت ان کی اولین ترجیح ہے اور ایسے واقعات کو سختی سے نمٹا جائے گا۔