کلام بی بی بی انٹرنشنل یونیورسٹی بنوں

ڈاکٹر ذکیہ گلفام

فارسٹ افیسر کی حیثیت سے بونیر میں میرا تیسرا دن تھا مجھے یہاں کے لوگ اور ان کے رسومات و روایات کا کچھ زیادہ اندازہ نہیں تھا ،یہ لوگ بہت ملنسار سادہ اور مہمان نواز قسم کے تھے میں خود ایک مجلسی انسان تھا شاید یہی وجہ تھی کہ بونیر کی خاک بھی ادبی لحاظ سے  مجھے بڑی زرخیز معلوم ہوئی  ۔فطرت حسن سادگی یہ سب اس جگہ میسر تھا۔۔۔۔۔۔۔۔.  ہاں تو میں یہ کہہ رہا تھا کہ مجھے یہاں  جوائن کیے ہوئے تیسرا دن تھا (بابا جی کنڈاؤ ) کے آس پاس کچھ ایسے درختوں کو کاٹنے کی منظوری دینی تھی جو گزرگاہ کے لیے رکاوٹ کا باعث بن رہے تھے، لیکن منظوری سے پہلے میں نے بذات خود  جائزہ لینا  مناسب سمجھا تھا،  شام ڈھلنے سے ذرا سا پہلے کا منظر تھا اپنی گاڑی ذرا فاصلے پر کھڑی کر کے میں ان درختوں کے قریب گیا اور ان کا جائزہ لینے لگا میں راستے میں حائل سب سے تنا درخت کے پاس اس طرح کھڑا تھا کہ راستے میں ہونے والی کسی بھی آہٹ کی طرف دھیان نہیں گیا ،اس بڑے درخت کا جائزہ لے کر میں دو قدم واپسی کی غرض سے پیچھے موڑا ہی تھا کہ اچانک کسی سے ٹکرا گیا فورا پلٹ کر دیکھا گھبراہٹ کے مارے اس کا نقاب چہرے سے ہٹ گیا ، بائیں ہاتھ اور کمر کی مدد سے ایک چھوٹے سے گھڑے کو پکڑا ہوا تھا جبکہ دائیں ہاتھ اور سر کی مدد سے دوسرا گڑھا اٹھایا ہوا تھا( ایسے میں ان کا نقاب گرنا  اور ایک اجنبی سے ان کا سامنا ہونا ،جو لباس سے اس علاقے کا تو بالکل نہیں لگ رہا تھا ایک پریشان کن امر تھا) ان کی بولتی ہوئی بھوری آنکھوں میں یہ ڈر صاف دکھائی دے رہا تھا کہ کوئی اس کو اس حالت میں  دیکھ نہ لے، سرخ و سفید رنگت اور خوبصورت ناک میں  چھوٹے سے ڈائمنڈ کی مانند لونگ لشکارے مار رہا تھا، بڑی سی نیلی چادر اوڑھے اپنے شریر لٹوں کو گردن ہلا ہلا کر پیچھے کی طرف چھپ جانے کی  ناکام کوشش کررہی تھی جبکہ ان کی شریر  لٹوں پر اس کا ذرا بھی اثر نہیں ہو رہا تھا۔۔اپنی 27 سالہ زندگی میں اتنی حسین عورت کو اتنے قریب سے پہلی بار دیکھا تھا ہوش سے بیگانگی کے عالم میں کچھ دیر تک یک ٹک اسے تکتا رہااور جیسے ہی موقع کی نزاکت کا ذرا سا اندازہ ہوا۔۔۔۔۔۔چونک کر ایک طرف کو ہوا اور اس کو جانے کا اشارہ کیا۔۔۔۔۔کسے خبر تھی کہ وہ رات میرے لیے رتجگا ثابت ہوگی۔۔۔۔ یہ علاقہ یہاں کے لوگ تو مجھے ویسے بھی پسند تھے لیکن یہاں رہنے کی ایک حسین وجہ وہ اجنبی سی لڑکی بھی بنی۔۔۔۔۔۔لہذامیں روزانہ شام سے ذرا سا پہلے اکثر اسی گزرگاہ پر ان کا انتظار کرنے لگا کئی دنوں کے انتظار کے بعد ایک ڈھلتی شام کو اس سے میری ملاقات ہوئی ،بات کرنے کی ہمت میں ان دنوں جمع کر ہی چکا تھا کیونکہ وہ اس گزرگاہ پر روزانہ نہیں آتی تھی لہذا موقع گنوانے کا ارادہ بالکل نہیں تھا، خلاف توقع اس نے میری بات آرام سے سنی ،میری پسندیدگی کے اظہار پر حیران ہونا بھی اس کا بجا تھا میں اس حسین لڑکی کے متعلق اور کچھ نہیں کہوں گا یہاں تک کہ ان کا نام بھی منظر عام پر نہیں لانا چاہتاالبتہ اتنا کہہ دوں کہ میں اس کو "ملکہ کو ہستان" کہہ کر پکارتا  تھا، اسے بھی میری محبت کا اندازہ پہلی ملاقات میں ہی ہو گیاتھا اور اس 
کی طرف سے یہ راز مجھ پر عیاں ہوا کہ  بچپن میں ہی اس کا رشتہ طے ہو چکا ہے لیکن اس کے باوجود بھی دل کے ہاتھوں مجبور ہو کر اس کے منع کرنے پر بھی کئی دفعہ میں ان کے لیے اس راہ گزر پہ کھڑا اس کا انتظار کرتا رہا اور یوں ہماری کئی ایک ملاقاتیں ہوئیں جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ان کی شادی سے کچھ دن پہلے ہی میں یہاں سے باڑہ گلی اپنا تبادلہ کرنے پر مجبور ہوچکا تھا۔۔۔۔۔۔۔ آج پندرہ سال بعد اس حسین و پرکیف جگہ پھرسے بیٹھا ہوں جہاں اکثر دسمبر کی شام گزارنے میں عجیب طرح کا لطف محسوس کرتا تھا۔۔۔۔ایک وقت تھا کہ جب میں یہاں بیٹھ کر (بابا جی کنڈاؤ ) اس اونچائی سے ان کے گاؤں کی سمت دیکھتا تھا۔۔۔۔۔مگر آج اس کی ہم نام  اپنی سات سالہ بیٹی کے ہمراہ اس اداس شام میں بیٹھا اس منظر میں عجیب قسم کی اداسی محسوس کر رہا ہوں۔۔۔۔میں نے ایک ملاقات پر اس کے منع کرنے کے باوجود اسے  موتیوں کا ایک ہار دیا تھا جو اگلی ملاقات پہ  اس نے پہن رکھا تھا ، آج اس اونچائی سے دیکھتے ہوئے  ان گھروں میں روشن ان بلبوں پر عجیب طرح کا گمان ہوتا ہے  میں یہ محسوس کر رہا ہوں کہ شاید میری " ملکہ کوہستان" کا وہ ہار ٹوٹ کر بکھر گیا ہے جو موتیوں کا بنا تھا اور اس کے گلے میں ان موتیوں نے ہیروں کی حیثیت حاصل کر لی تھی آج اس شام میں وہ تمام ہیرے مجھے ان قمقوں کی صورت میں بکھرے پڑے نظر آرہے ہیں۔۔۔۔۔اور میری "ملکہ  کو ہستان" انہی گھروں میں سے کسی گھروندے کا  چولہا پھونک رہی ہوگی۔۔۔