کئی شاہراہیں بند،گاڑیوں کی میلوں لمبی قطاریں،سیاح پھنس گئے ،چترال میں9جاں بحق
مری میں 20 سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا ، مالم جبہ 38 ، کالام 30 انچ،نتھیاگلی 2 فٹ برف پڑ ی
،کوئٹہ میں پانی جم گیا، برفانی تودہ گرنے سے مرنیوالوں کا تعلق ایک ہی خاندان سے ہے
حادثات میں3افراد چل بسے، بیسیوں زخمی، فلائیٹ آپریشن متاثر ،7پروازیں منسوخ
لاہور ،اسلام آباد،پشاور،کوئٹہ (مانیٹرنگ ڈیسک ،بیورو رپورٹ)پنجاب کے سیاحتی مقام مری ، صوبہ خیبر پختونخوا ،بلوچستان سمیت ملک کے کئی پہاڑی علاقوں میں شدید برفباری،کئی علاقوں میں بارش ، نظام زندگی مفلوج ، سڑکیں بند ہونے کی وجہ سیگاڑیوں کی میلوں لمبی قطاریں، سیاح پھنس گئے ،مری میں برفباری کا 20 سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا ، مالم جبہ میں اب تک 38 انچ، کالام 30 ،چترال 16 انچ ،نتھیاگلی 2 فٹ جبکہ ایوبیہ میں 3 فٹ ، مری میں 18 انچ برف پڑ چکی ،پختونخوا کے ضلع چترال میں برفانی تودہ گرنے سے ایک ہی خاندان کے 10 افراد ملبے تلے دب گئے، 9 افراد جاں بحق ،ایک بچے کو زندہ نکال لیا گیا،دیگر علاقوں میں بھی مختلف حادثات میں 3افراد دم توڑ گئے،متعدد زخمی ہو گئے۔دریں اثناء آج ہفتہ کے روز بیشتر علاقوں میں موسم سرد اور خشک رہنے تاہم بالائی خیبر پختونخوا ،کشمیر، گلگت بلتستان اور شمالی بلوچستان میں موسم شدید سرد رہنے کی توقع ہے۔ تفصیلات کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں کے د وران ملک کے کئی علاقوں میں تیز ہوائوں اور گرج چمک کے ساتھ بارش اور پہاڑ ی علاقوں میں برفباری ہوئی جس سے نظام زندگی مفلوج ہوگیا ۔ لاہور سمیت پنجاب کے میدانی علاقوں میں سردی کی شدت میں اضافہ ہو گیا ،مری میں ریکارڈ برفباری کے بعد ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا گیا،پی ڈی ایم اے پنجاب کے مطابق مری میں شام سے وقفے وقفے سے برفباری کا سلسلہ جاری ہے ،مری کے اندر موجود 5 ہزار گاڑیوں کو بحفاظت نکالنے کیلئے ریسکیو آپریشن شروع کردیاگیا، مری اور مضافات میں شدید برفباری کا تیسرا سپیل شروع ہو چکا۔محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ مری میں برفباری کا سلسلہ رات تک جاری رہیگا، سیاحوں کے مری آنے پر پابندی عائد کردی گئی ، نظام زندگی مکمل طور پر مفلوج ہوگیا ،گزشتہ رات سے بجلی بھی مکمل طور پر منقطع ہے، مری اور مضافات میں انٹرنیٹ سروس جزوی معطل کردی گئی جبکہ ایکسپریس وے این 75 پر شدید برف باری کے بعد پھلگراں ٹال پلازہ سے مری کی طرف ہر قسم کی ٹریفک بند کر دی گئی ۔پی ڈی ایم اے نے سیاحوں کو غیر ضروری سفر سے اجتناب اور محتاط رہنے کی ہدایت کر دی ہے، وزیر اعلی پنجاب مریم نواز کی ہدایت پر مری میں موثر و مربوط انتظامات کا سلسلہ جاری ہے جبکہ سیاحوں میں خوش میوہ جات اور کھانے پینے کی تقسیم کا سلسلہ جاری ہے۔ترجمان پی ڈی ایم اے پنجاب کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں اْن کا کہنا ہے کہ ’مری میں گزشتہ روز سے اب تک 18 انچ تک برف پڑ چکی ہے۔ برف ہٹانے کا کام ڈی سی اور متعلقہ انتظامیہ ہنگامی بنیادوں پر کر رہی ہے۔علاوہ ازیں مری میں 22 گھنٹوں بعد رکنے والی برف باری ایک بار پھر شروع ہوگئی ۔ جھیگا گلی سے ملحقہ ایم آئی ٹی روڈ پر سیاحوں کی گاڑیاں پھنس گئیں ، جہاں سے آخری اطلاعات تک برفباری نہیں ہٹائی جاسکی ۔ سیاحوں نے ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ ہمارے پاس پیسے ہیں نہ ہی کھانے کا کوئی انتظام ، کئی گھنٹے سے ہم برف میں پھنسے ہیں کوئی ادارہ نہیں پہنچا۔ادھر پولیس انتظامیہ نے گلیات کے ہوٹلز میں قیام پذیر سیاحوں کو روڈ کلیئر نہ ہونے تک باہر نہ نکلنے کی ہدایت کر دی۔ مانسہرہ میں شدید برفباری اور درخت گرنے کے باعث قراقرم ہائی وے کڑ منگ بالا،بٹل اور چھتر پلین کے مقامات پر ٹریفک کے لیے بند ہو گئی ،جس کے باعث متعدد گاڑیاں سڑک پر پھنس گئیں جنہیں بعدازاں بحفاظت نکال لیا گیا۔ علاوہ ازیں بلوچستان کے شمالی بالائی علاقوں میں برفانی طوفان جاری ہے، زیارت جانے والی درجنوں گاڑیاں کوئٹہ زیارت شاہراہ پر پھنس گئیں جبکہ چمن کے گردونواح میں بھی 100 سے زائد سیاحوں کی گاڑیاں موجود تھیں۔ این 50 شاہراہ پر برف اور شدید پھسلن کے باعث 9 مختلف حادثات پیش آئے جن میں 27 افراد زخمی ہوئے ،شیلاباغ کے قریب پھسلن کے باعث متعدد گاڑیاں آپس میں ٹکرا گئیں جس کے نتیجہ میں 2 افراد جاں بحق اور 7 زخمی ہوگئے۔ کوئٹہ سمیت بلوچستان کے مختلف اضلاع میں خون جما دینے والی سردی سے معمولات زندگی بھی متاثر ہو گئے۔ کوئٹہ ،قلات، زیارت سمیت دیگرعلاقوں میں شہریوں کی گھر وں کی ٹینکیوں اور پائپوں میں پانی جم گیا ۔خیبرپختونخوا کے اضلاع مانسہرہ، بالائی گلیات، شانگلہ، لوئر دیر، مہمند، کالام، اورکزئی، چترال اور خیبر میں بھی شدید برفباری ہوئی۔ ضلع خیبر کی وادی تیراہ میں بارش اور برفباری کے باعث 100 کے قریب گاڑیاں پھنس گئیں جبکہ 35 افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کردیا گیا۔ذرائع کے مطابق وادی تیراہ میں حالیہ شدید برفباری کے باعث پھنسے آئی ڈی پیز کی محفوظ مقامات پر منتقلی کیلئے ریسکیو آپریشن جاری ہے ، وادی تیراہ میں متاثرہ افراد کو خوراک، گرم رہائش اور دیگر بنیادی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ ضلع خیبر کی وادی تیراہ میں بہت زیاہ برفباری ہوئی ،بہت سارے لوگ پھنسے ہوئے ہیں، خوراک اور دیگر امدادی سامان پر مشتمل ٹرک تیراہ روانہ کر دئیے گئے۔ پاک فوج کی جانب سے بھی تیراہ سے عارضی انخلا کرنے والے شہریوں کے لیے برفباری کے دوران امدادی سرگرمیاں جاری ہیں۔کالام میں پاک فوج اور مقامی انتظامیہ نے بازار کو شہریوں اور سیاحوں کے لیے دوبارہ کھول دیا۔وادی تیراہ سے آنے والے تاجر شیر افگن نے برطانوی خبررساں ادارے کو بتایا ہے کہ تیراہ کے علاقے میں شدید برف پڑ رہی ہے اور بڑی تعداد میں گاڑیاں پھنس چکی ہیں ، برفباری کی وجہ سے گھریلو سامان سے لدی گاڑیاں پھسل رہی ہیں، جب سے نقل مکانی کا سلسلہ شروع ہوا ہے اس کے بعد سے تیراہ میں اشیائے خورونوش کی قلت پیدا ہو گئی ہے۔ ادھر شانگلہ میں برفباری کے بعد بجلی کا نظام درہم برہم ہوگیا جبکہ چترال میں متعدد رابطہ سڑکیں بند ہو گئیں جبکہ چترال کے علاقے ڈومیل میں ایک گھر پر برفانی تودہ گرنے سے 9 افراد جاں بحق ہوگئے،ایک بچہ زخمی ہوگیا۔ڈی سی آفس چترال کا کہنا ہے کہ جاں بحق ہونے والوں میں 4 خواتین اور 5 مرد شامل ہیں،ملبہ تلے سے لاشیں نکال لی گئی ہیں۔ صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے چترال میں برفانی تودہ گرنے سے قیمتی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیاہے، اپنے تعزیتی بیان میں صدرِ مملکت نے کہا ہے کہ شدید بارش، برفباری اور اچانک شدید سردی موسمیاتی ہنگامی صورتحال کی واضح نشانیاں ہیں،موسمی تبدیلیوں کے مطابق پیشگی تیاری اور نقصانات کم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ مزید برآں گلگت بلتستان کے ضلع استور کے بالائی علاقوں میں 2 سے 3 فٹ تک برفباری ہوچکی ،زمینی رابطے منقطع ہوگئے اور لوگ گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے ہیں۔علاوہ ازیں آزاد کشمیر کے مختلف علاقوں میں بارش اور بالائی علاقوں میں وقفے وقفے سے برفباری کا سلسلہ جاری ہے ۔ دریں اثناکراچی میں بارش کے بعد یخ بستہ ہوائو ں سے سردی کی شدت میں اضافہ ہوگیا۔ کوئٹہ کی سرد ہواں کے باعث کراچی میں اتوار تک سردی کی لہر جاری رہنے کا امکان ہے۔ ادھر میانوالی تحصیل پپلاں میں بارش کے باعث مرغی خانے کی چھت گرنے سے 17 سالہ نوجوان عبدالرحمن جاں بحق جبکہ دو افراد شدید زخمی ہوگئے ، ریسکیو نے موقع پر پہنچ کرزخمیوں کو ابتدائی طبی امداد فراہم کرکے ہسپتال منتقل کردیا۔پی ڈی ایم اے پنجاب کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران راولپنڈی میں سب سے زیادہ بارش 38 ملی میٹر تک ریکارڈ کی گئی۔ چکلالہ میں 38 ،چکوال 37، سیالکوٹ 34، نارووال 33، لاہور 21، گجرات 20، ملتان 19، نورپور تھل 16 اور لیہ میں 15 ملی میٹر تک بارش ریکارڈ ہوئی، لاہور کے مختلف علاقوں میں ڑالہ باری بھی ریکارڈ کی گئی جبکہ لاہور میں کم سے کم درجہ حرارت 4،کراچی کا 8 ،کوئٹہ منفی 9 ،چمن منفی 6، قلات منفی12 ،زیارت منفی 11 ، پاراچنار منفی 7،گوپس منفی 5، کالام،مالم جبہ منفی 4 اور لہہ میں منفی 3 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔ دوسری طرف ملک بھر میں گزشتہ روز موسمی خرابی کے باعث 7پروازیں منسوخ جبکہ 51 تاخیر کا شکار رہیں جس سے مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔فلائٹ شیڈول کے مطابق اسلام آباد ایئرپورٹ سے 20، لاہور ایئرپورٹ سے 21، کراچی ایئرپورٹ سے 9پروازوں کو تاخیر ہوئی۔ دریں اثناء محکمہ موسمیات کے مطابق اتوار کی رات سے منگل تک ملک کے مختلف علاقوں میں مزید بارش اور برفباری متوقع ہے ،25 جنوری کو مغربی ہوائوں کا نیا سلسلہ ملک میں داخل ہو سکتا ہے، جس کے اثرات بلوچستان اور بالائی علاقوں میں نمایاں ہوں گے۔ 26 جنوری کو بالائی سندھ میں بھی بارش اور گرج چمک متوقع ہے ،پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ اور برفانی تودے گرنے کے خطرات موجود ہیں ، لاہور سمیت پنجاب کے بیشتر اضلاع میں آئندہ 24گھنٹوں میں تیز بارش کا امکان ہے۔