18 سال سے کم عمر نوجوانوں کی شادیاں کرائوں گا ،ہم ایسے قوانین اس ملک میں نہیں چلنے دیں گے‘ایسی قانون سازی کو غیر اسلامی سمجھتا ہوں:سربراہ جے یو آئی

نواز، شہباز شریف غلامی قبول کرتے ہیں تو انہیں مبارک، ہم نہیں کرینگے مولانا فضل الرحمن ملکی سلامتی پر کسی سے درس لینے کے محتاج نہیں:احسن اقبال
سابق صدرپرویز مشرف کے خلاف نکل سکتا ہوں تو ان کے خلاف بھی نکل سکتا ہوں‘غزہ  پیس بورڈ کے نکات میں تبدیلیاں ہوئیں تو آپ کیوں گئے،  تم ڈونلڈ کی شکل میں ایک بت کو راضی کرنے میں لگے ہو:فضل الرحمن
اتنے ٹھنڈے، گرم  ایوانوں کے اندر تقریریں کرنا آسان ہے، جس عمل پر فلسطین کی عوام نے جشن منایا ہم اس پر تنقید کر رہے ہیں‘ پاکستان کو سینٹر سٹیج ملا ہے تو سفارتی کامیابی ہے‘بورڈ آف پیس میں پاکستان نہ جاتا تو یہ کہتے ملک تنہا رہ گیا:احسن اقبال
اسلام آباد(آئی این پی‘مانیٹرنگ ڈیسک )جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے  اگر میں سابق صدر جنرل پرویز مشرف کے خلاف نکل سکتا ہوں تو ان کے خلاف بھی نکل سکتاہوں، یہ غلامی نواز شریف اور شہباز شریف قبول کرنا چاہتے ہیں تو انہیں مبارک، ہم غلامی قبول نہیں کریں گے، میں 18 سال سے کم عمر نوجوانوں کی قانون سازی کو غیر اسلامی سمجھتا ہوں۔ان خیالات کااظہار انہوں نے جمعہ کوپارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ اگر پیس بورڈ کے نکات میں تبدیلیاں ہوئیں تو آپ کیوں گئے، ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیل کی قوت جارحیت کو تقویت دے رہا ہے، ڈونلڈ ٹرمپ حماس کو دھمکیاں دے رہا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ افغانستان، عراق، لیبیا کی اینٹ سے اینٹ بجا دی، اسرائیل ایران پر حملہ کرنے کے بعد تفتان کی سرحد پر کھڑا ہوگا، اسرائیل کے پہلے صدر نے کہا کہ ہماری اساس ایک نوزائیدہ اسلامی ریاست کا خاتمہ ہوگا، ان کے ارادے واضح ہیں اس کے باوجود  ہم دوڑتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ تم ڈونلڈ کی شکل میں ایک بت کو راضی کرنے میں لگے ہو،  امریکا نے آپ کے بنگال کو بھی نہیں بچایا آگے بھی نہیں بچائیں گے، ایسے فورم میں جا رہے ہیں جس کا آغاز دھمکیوں سے ہورہا ہے۔مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ  دلیل دی جاتی ہے کہ اقوام متحدہ میں بھی اسرائیل ہے، آپ کے پاسپورٹ میں اسرائیل جانے پر پابندی کیوں ہے،  ہمیں امن چاہیے لیکن کوئی اصول ہوتے ہیں، ہر طرف معاشی ترقی ہورہی ہے صرف پاکستان ڈوب رہا ہے،  وزیر اعظم نے پارلیمنٹ اور کابینہ کو اعتماد میں نہیں لیا۔   خود وزیر خارجہ کہہ چکے ہیں کہ ٹرمپ کے ابتدائی نکات وہ نہیں جو طے ہوئے تھے،  کیا اب وہ اعتراضات دور ہوگئے،  کیا بغیر پڑھے دستخط کردیے گئے‘وفاقی وزیر اور مسلم لیگ ن کے رہنما احسن اقبال نے مولانا فضل الرحمن کی تقریر پرجواب دیتے ہوئے کہا   پاکستان کی سلامتی پرکسی سے درس لینے کے محتاج نہیں ہیں۔قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا   مسلم لیگ ن کے ہوتے ہوئے پاکستان کی سلامتی اور استحکام پر کوئی میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتا،  اتنے ٹھنڈے، گرم  ایوانوں کے اندر تقریریں کرنا آسان ہے، جس عمل پر فلسطین کی عوام نے جشن منایا ہم اس پر تنقید کر رہے ہیں۔ آج اگر پاکستان کو سینٹر اسٹیج ملا ہے تو پاکستان کی سفارتی کامیابی ہے، سعوی عرب ،ترکیہ ، بحرین  یو اے ای مسلمان ملک اور ہمارا بہترین دوست ملک نہیں،  مسلمان ممالک کو امن کیلئے کردار ادا کرنے کاموقع ملا۔ اسرائیل ایک سفاک ملک ہے اس اصولی مؤقف میں کوئی تبدیلی نہیں، پاکستان کی آزادی اور خود مختاری کی مثال قائم کی ہے،  امریکا نے ایٹمی دھماکے روکنے کیلئے پانچ فون کالز کیے،  پوری دنیا کے باجود جرت کے ساتھ فیصلہ کیا، ہم پاکستان کی سلامتی اور خود مختاری کے محافظ ہیں۔ اس حکومت کے ہوتے ہوئے پاکستان کو کوئی میلی نگاہ سے نہیں دے سکتا، ہمیں کوئی بزدلی اور غفلت کا طعنہ نہیں دے سکتا، کوئی میلی آنکھ سے دیکھے گا تو آنکھیں نوچ لیں گے۔ غزہ کی وجہ سے ہماری دل چھلنی ہیں، بورڈ آف پیس میں پاکستان نہ جاتا تو یہ کہتے پاکستان تنہا رہ گیا، ہم برابر اسلامی ملکوں کے ساتھ غزہ کے امن کیلئے حصہ ڈال سکتے ہیں، کیا سعودی عرب ترکیے قطر متحدہ عرب امارات مسلمان ملک نہیں ہے، کیا یہ تمام ممالک پاکستان کے دوست نہیں ہیں۔