چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی نے پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے سینیٹر اعجاز چوہدری کے پروڈکشن آرڈرز پر عمل درآمد نہ ہونے پر سینیٹ کے اجلاس کی صدارت سے انکار کر دیا۔
یہ واقعہ سینیٹ کا اجلاس شروع ہونے پر پیش آیا، جب یوسف گیلانی نے اجلاس کی صدارت کرنے سے انکار کیا اور کہا کہ جب تک ان کے حکم پر عمل درآمد نہیں ہوگا، وہ اجلاس کی صدارت نہیں کریں گے۔یوسف گیلانی کا موقف تھا کہ وہ سینیٹ اجلاس کی صدارت اس صورت میں کریں گے جب پی ٹی آئی سینیٹر اعجاز چوہدری کو جیل سے لانے کے لیے جاری کیے گئے پروڈکشن آرڈرز پر عمل درآمد کیا جائے گا۔ واضح رہے کہ چیئرمین سینیٹ نے اعجاز چوہدری کو سینیٹ اجلاس میں پیش کرنے کے لیے جیل سے لانے کے پروڈکشن آرڈرز جاری کیے تھے، لیکن جیل انتظامیہ نے ان آرڈرز پر عمل درآمد کرنے سے انکار کر دیا تھا، جس پر یوسف گیلانی نے احتجاجاً اجلاس کی صدارت سے انکار کر دیا۔
اس صورتحال کے باعث سینیٹ کا اجلاس ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ یوسف گیلانی نے اس اقدام کو حکومت کی جانب سے عدلیہ اور پارلیمنٹ کے کردار کو کمزور کرنے کی کوششوں کے طور پر دیکھا، اور ان کا کہنا تھا کہ اگر اس مسئلے کا فوری حل نہ نکالا گیا تو وہ آئندہ بھی اجلاس کی صدارت کرنے سے گریز کریں گے۔یہ واقعہ ایک سیاسی تنازعہ کا حصہ بن چکا ہے جس میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان سینیٹ کی کارروائیوں اور سینیٹرز کے حقوق پر بحث جاری ہے۔