سیف علی خان پر حملے کی تحقیقات میں اہم پیش رفت، چاقو برآمد

سیف علی خان پر حملے کی تحقیقات میں اہم پیش رفت، چاقو برآمد

ممبئی پولیس نے بالی ووڈ کے معروف اداکار سیف علی خان پر حملے کے کیس میں اہم پیشرفت کی ہے۔

 سیف علی خان پر حملے کے الزام میں گرفتار ملزم محمد شریف الاسلام شہزاد نے دوران تفتیش بتایا کہ اس نے جس چاقو سے سیف علی خان پر حملہ کیا تھا، وہ چاقو اس نے باندرہ جھیل کے قریب پھینک دیا تھا۔ پولیس نے اس بیان کے بعد فوری طور پر کارروائی کرتے ہوئے جھیل کے نزدیک سے چاقو برآمد کر لیا، جو اس کیس کی تحقیقات میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔اس کے علاوہ، ممبئی پولیس نے ایک رکشہ ڈرائیور سے بھی تفتیش کی ہے، جس کا دعویٰ ہے کہ اس نے باندرہ کے علاقے میں ایک مشتبہ شخص کو دیکھا تھا، جسے پولیس نے مزید تحقیقات کے لیے شامل کیا۔ پولیس نے ملزم کے بیان کے بعد اس کے دیگر سامان جیسے قمیض، اسکارف، چاقو اور بالوں کے نمونے بھی فرانزک ٹیسٹ کے لیے بھیج دیے ہیں تاکہ مزید تفصیل حاصل کی جا سکے۔

سیف علی خان کو اسپتال سے ڈسچارج کیا گیا تھا اور انہیں سخت سکیورٹی کے تحت اپنے گھر پہنچایا گیا۔ سیف علی خان کی تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی تھیں، جن میں انہیں سفید شرٹ اور جینز میں خود چلتے ہوئے اپنے اپارٹمنٹ میں داخل ہوتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔ ان کے بائیں ہاتھ پر پٹی بھی لگی ہوئی تھی، جو اس بات کی تصدیق کر رہی تھی کہ انہیں زخمی ہونے کے باوجود اسپتال سے واپس بھیجا گیا تھا۔پولیس کی تحقیقات کا مقصد اس حملے کے پس پردہ حقائق کو سامنے لانا اور اس کیس میں ملوث افراد کو جلد از جلد گرفتار کرنا ہے تاکہ اس واردات کی اصل حقیقت کا پتا چل سکے۔