بلوچ علیحدگی پسند تنظیموں کو غیر ملکی ایجنسیوں کی حمایت حاصل ہے:سابق بی ایل اے کمانڈر

بلوچ علیحدگی پسند تنظیموں کو غیر ملکی ایجنسیوں کی حمایت حاصل ہے:سابق بی ایل اے کمانڈر

سابق بی ایل اے کمانڈر نجیب اللہ نے ہتھیار ڈال کر قومی دھارے میں شامل ہونے کا اعلان کیا اور کہا کہ بلوچ علیحدگی پسند تنظیموں کو غیر ملکی ایجنسیاں سپورٹ کر رہی ہیں۔

 نجیب اللہ اور دیگر کمانڈرز، جن میں عبدالرشید اور جنگیز خان بھی شامل ہیں، نے کوئٹہ میں صوبائی وزرا اور ڈی آئی جی سی ٹی ڈی بلوچستان کے ہمراہ نیوز کانفرنس کی۔نجیب اللہ نے کہا کہ وہ اپنی زندگی کے 19 سال ان تنظیموں کے ساتھ گزار کر پچھتاتے ہیں اور انہوں نے اپنے دوستوں کو پیغام دیا کہ دشمن ممالک ریاست کے خلاف کھیل کھیل رہے ہیں، لہذا ریاست واپس آنے والوں کے لیے راستے کھولے جانے چاہیے تاکہ وہ اپنے بچوں کے ساتھ امن و سکون سے زندگی گزار سکیں۔ عبدالرشید نے بتایا کہ 2009 میں بی ایل ایف کے کمانڈر عابد عمران سے ملاقات کے بعد اس نے دہشت گردی کی راہ اختیار کی اور اب خوشی کا اظہار کیا کہ وہ واپس آ چکا ہے۔ جنگیز خان نے اپنی کہانی سناتے ہوئے کہا کہ اس نے مالی حالات کی وجہ سے بی ایل اے میں شمولیت اختیار کی، اور وہ اب قومی دھارے میں واپس آ چکا ہے۔

ڈی آئی جی سی ٹی ڈی نے کہا کہ یہ کمانڈرز قومی دھارے میں شامل ہو چکے ہیں اور پراپیگنڈے کے تحت نوجوانوں کی ذہن سازی کی جارہی ہے۔ صوبائی وزیر ظہور احمد بلیدی نے کہا کہ بلوچستان میں دہشت گردی کے اس گھناؤنے کھیل کے ذریعے معصوم بچوں کو پہاڑوں پر لے جایا جا رہا ہے۔ حکومت نے ہتھیار ڈالنے والوں کا کھلے دل سے خیرمقدم کیا ہے اور گمراہ افراد کے لیے راستے کھولے ہیں تاکہ وہ اپنے وطن واپس آ کر بہتر زندگی گزار سکیں۔