بلوچستان کے بچے کسی سے کم نہیں، بس چلے تو پنجاب سے زیادہ سکالر شپ اور لیپ ٹاپ بلوچستان کے طلبہ کو دوں، ای بائیک دینے کا بھی جائز ہ لیا جائیگا
وزیراعلیٰ کی بلوچستان ریزیڈنشل کالج لورا لائی کے 50 رکنی طلبہ وفد سے ملاقات ،سیروسیاحت کے لیے جیب خرچ دینے کی ہدایت ، لیپ ٹاپ کاتحفہ دیاگیا
لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک)وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نوازشریف نے کہا ہے کہ مانگ کر قومیں ترقی نہیں کرتیں، 2016میں آئی ایم ایف کے چنگل سے نکلے،بعد میں پھر پھنسا دیا گیا۔وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز سے بلوچستان ریزیڈنشل کالج لورا لائی کے 50 رکنی طلبہ کے وفد نے ملاقات کی، اس موقع پر مریم نواز کی طرف سے بلوچستان کے طلبہ کے لیے لیپ ٹاپ کا تحفہ دیا گیا۔ترجمان کی جانب سے جاری بیان کے مطابق انہوں نے بلوچستان کے طلبہ کی درخواست پر سیروسیاحت کے لیے جیب خرچ دینے کی ہدایت کی اور ڈبل ڈیکر بس پر لاہور کی سیر کرانے اور بہترین ہوٹل میں لنچ کا اہتمام کرانے کا کہا۔بلوچستان کے طلبہ نے پنجاب میں وزیر اعلیٰ مریم کے اقدامات کی تعریف کی اور پنجاب میں تعلیم حاصل کرنے کی خواہش کا اظہار کیا جب کہ وزیراعلیٰ نے بلوچستان کے طلبہ سے ملاقات کے لیے مصروفیات ترک کردیں۔مریم نواز نے کہا کہ بہت جلد بلوچستان آکر طلبہ کو ہونہار سکالرشپ دینا چاہتی ہوں، بس چلے تو پنجاب سے زیادہ سکالر شپ اور لیپ ٹاپ بلوچستان کے طلبہ کو دوں، کافی عرصے سے بلوچستان کے طلبہ کے بارے میں سوچ رہی تھی، بلوچستان کے طلبہ کو ای بائیک دینے کا بھی جائز ہ لیا جائے گا، جہاں پاکستان مسلم لیگ(ن) کی حکومت رہی ترقی وہاں پر ہوئی۔ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف کے 3 مرتبہ وزارت عظمیٰ کے دور میں بلوچستان اوپر گیا، نواز شریف نے بلوچستان پر ہر مرتبہ بھرپورتوجہ دی، شاید پنجاب سے بھی زیادہ بلوچستان توجہ کا مرکز رہا، ہر پاکستانی کی طرح میرے دل میں بھی بلوچستان کے لیے بہت محبت ہے، بلوچستان پاکستان کے لیے جانیں دینے والے شہداء کی سرزمین ہے۔مریم نواز نے کہا کہ بلوچستان کے لوگوں کے لیے دل تڑپتا ہے، بلوچستان کے بچے کسی سے کم نہیں، موافق حالات ملیں تو سب سے آگے بڑھیں گے، جتنا پنجاب کے بچوں کے بارے میں سوچتی ہوں،اتنی ہی فکر بلوچستان اور دیگر صوبے کے بچوں کے لیے بھی ہے۔وزیر اعلیٰ پنجاب نے کہا کہ دہشت گردوں کا بلوچستان میں فعال ہونا افسوسناک اور تکلیف دہ ہے،سچائی کو عقل ودانش اور شعور کی کسوٹی پر پرکھنا چاہیے، دہشت گردخود باہر رہتے ہیں، بچے بھی باہر رکھتے ہیں اور دوسروں کے بچوں کوورغلا کر مرواتے ہیں، ہم پنجابی اور بلوچی بعد میں ہیں پہلے پاکستانی ہیں۔مریم نواز نے کہا کہ سرکاری ہی نہیں اچھی پرائیویٹ یونی ورسٹی کے طلبہ کو پہلی مرتبہ سکالر شپ مل رہا ہے، 30 ہزار میں سے ایک بھی سکالر شپ سفارش پر نہیں دیا، سکالر شپ دیتے ہوئے کسی سے نہیں پوچھا گیا کہ تعلق کس جماعت سے ہے، سکالرشپ حاصل کرنے والے اگلے 4سال مفت تعلیم حاصل کریں گے۔انہوں نے کہا کہ طلبہ کی طرف سے ملنے والی محبت اور پیار کو مخالفین نے ڈراما قرار دیا، ڈیجیٹل دور میں لیپ ٹاپ کے بغیر پڑھائی ممکن نہیں، منصب عوام کی امانت ہے،اللہ اور عوام کے سامنے خود کوجوابدہ سمجھتی ہوں۔مریم نواز نے کہا کہ چلڈرن ہارٹ سرجری پروگرام سے پنجاب ہی نہیں دیگر صوبوں کے بچے بھی مستفید ہورہے ہیں، بلوچستان کے شہری نے دوماہ کی فری میڈیسن ملنے پر شکریہ ادا کیا، ائیر ایمبولینس سروس سے پنجاب ہی نہیں دوسروں صوبوں کو خدمات مہیا کررہے ہیں۔صوبے کو فنڈز ملتے ہیں، گڈ گورننس،محنت اور کمٹ منٹ کا نام ہے، پچھلے دور میں صوبہ رل گیا،4سال سے پیسا پتا نہیں کہا ںجاتا رہا۔