ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ 2026 میں پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان سپر ایٹ مرحلے کا اہم میچ آج پالیکیلے میں کھیلا جائے گا۔
انگلینڈ نے اس میچ کے لیے 4 اسپنرز پر مشتمل منفرد حکمت عملی تیار کی ہے، جس نے انہیں سری لنکا میں نمایاں کامیابیاں دلائی تھیں۔اسپینرز میں تجربہ کار لیگ اسپنر عادل رشید، آف اسپنر ول جیکس، لیفٹ آرم اسپنر لیام ڈاسن، اور نوجوان آل راؤنڈر جیکب بیتھل شامل ہیں۔ پالیکیلے انٹرنیشنل اسٹیڈیم میں انگلینڈ کے اسپنرز نے اس ٹورنامنٹ کے دوران چار میچز میں 24 وکٹیں حاصل کی ہیں، جن کی اوسط اکانومی 5.81 رہی ہے۔ خاص طور پر، ول جیکس اور عادل رشید نے 7، 7، لیام ڈاسن نے 6 اور بیتھل نے 4 وکٹیں حاصل کی ہیں۔حال ہی میں سری لنکا کے خلاف میچ میں، ول جیکس نے پاور پلے میں تین وکٹیں لے کر حریف بیٹنگ لائن پر دباؤ ڈالا۔ ڈاسن کا کہنا ہے کہ مختلف طرز کے اسپنرز ہونا ٹیم کی کامیابی کی اہم وجہ ہے، اور وہ اگلے میچ کے لیے پچ کی صورتحال کے مطابق حکمت عملی ترتیب دیں گے۔ پاکستان کے خلاف مقابلے کے لیے بھی یہی اسپنرز تیار ہیں، اور ٹیم کی حکمت عملی پچ کی حالت کے مطابق تبدیل ہوسکتی ہے۔
ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ 2026 میں پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان سپر ایٹ مرحلے کا اہم میچ آج پالیکیلے میں کھیلا جائے گا۔ انگلینڈ نے اس میچ کے لیے 4 اسپنرز پر مشتمل منفرد حکمت عملی تیار کی ہے، جس نے انہیں سری لنکا میں نمایاں کامیابیاں دلائی تھیں۔اسپینرز میں تجربہ کار لیگ اسپنر عادل رشید، آف اسپنر ول جیکس، لیفٹ آرم اسپنر لیام ڈاسن، اور نوجوان آل راؤنڈر جیکب بیتھل شامل ہیں۔ پالیکیلے انٹرنیشنل اسٹیڈیم میں انگلینڈ کے اسپنرز نے اس ٹورنامنٹ کے دوران چار میچز میں 24 وکٹیں حاصل کی ہیں، جن کی اوسط اکانومی 5.81 رہی ہے۔ خاص طور پر، ول جیکس اور عادل رشید نے 7، 7، لیام ڈاسن نے 6 اور بیتھل نے 4 وکٹیں حاصل کی ہیں۔
حال ہی میں سری لنکا کے خلاف میچ میں، ول جیکس نے پاور پلے میں تین وکٹیں لے کر حریف بیٹنگ لائن پر دباؤ ڈالا۔ ڈاسن کا کہنا ہے کہ مختلف طرز کے اسپنرز ہونا ٹیم کی کامیابی کی اہم وجہ ہے، اور وہ اگلے میچ کے لیے پچ کی صورتحال کے مطابق حکمت عملی ترتیب دیں گے۔ پاکستان کے خلاف مقابلے کے لیے بھی یہی اسپنرز تیار ہیں، اور ٹیم کی حکمت عملی پچ کی حالت کے مطابق تبدیل ہوسکتی ہے۔