افغانستان میں سیکیورٹی اور سیاسی بحران جاری، دہشتگرد گروہ سرگرم ہیں

افغانستان میں سیکیورٹی اور سیاسی بحران جاری، دہشتگرد گروہ سرگرم ہیں

افغانستان میں سیکیورٹی اور سیاسی صورتحال بدستور پیچیدہ اور نازک ہے، جہاں دہشت گرد گروہ سرگرم ہیں اور علاقائی سلامتی کے لیے مستقل خطرہ بنے ہوئے ہیں۔

روسی وزارتِ خارجہ کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق، افغانستان میں تقریباً 20 سے 23 ہزار دہشت گرد جنگجو موجود ہیں، جن میں نصف سے زائد غیر ملکی شامل ہیں۔ یہ دہشت گرد گروہ علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر خطرہ بنتے جا رہے ہیں۔رپورٹ کے مطابق، افغانستان میں موجود دہشت گرد گروہوں میں داعش کے تقریباً 3 ہزار اور تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے 5 سے 7 ہزار دہشت گرد شامل ہیں۔ ٹی ٹی پی کی سرگرمیاں خاص طور پر افغان سرزمین سے پاکستان میں حملوں کی صورت میں سامنے آتی ہیں، جس سے پاک-افغان تعلقات میں کشیدگی بڑھ رہی ہے۔اس کے علاوہ، القاعدہ اور دیگر دہشت گرد گروہوں کے تربیتی مراکز اور نیٹ ورکس افغانستان میں فعال ہیں۔ القاعدہ کے تربیتی مراکز مختلف افغان صوبوں، جیسے غزنی، لغمان، کنڑ، ننگرہار، نورستان، پروان اور ارزگان میں قائم ہیں۔

داعش خراسان بھی افغانستان کے مشرقی اور شمالی علاقوں میں مضبوط نیٹ ورک قائم کیے ہوئے ہے، جو علاقائی امن و استحکام کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔روسی وزارتِ خارجہ کے مطابق، افغانستان میں موجود دہشت گرد گروہوں کی سرگرمیاں خطے کے امن و استحکام پر براہ راست اثر ڈال رہی ہیں، اور اس صورتحال کی بدولت علاقائی سلامتی کو شدید خطرہ لاحق ہے۔ یہ صورتحال عالمی برادری کے لیے بھی تشویش کا سبب بنی ہوئی ہے، کیونکہ دہشت گردی کے پھیلاؤ سے علاقائی اور بین الاقوامی امن و امان کو خطرہ ہے۔