پاکستان کے نجی ٹی وی چینل کی رمضان ٹرانسمیشن کے دوران پیش آیا، جب ایک کالر نے ایک غیرمعمولی اور حیران کن سوال کیا۔
کالر نے مذہبی عالم سے درخواست کی کہ وہ ایسا وظیفہ بتائیں جس سے قومی ٹیم کے اسٹار بیٹر، بابر اعظم، کو ٹیم سے نکال دیا جائے۔ اس سوال پر ناظرین اور دیکھنے والے حیران رہ گئے، کیونکہ یہ ایک غیرمعمولی اور جذباتی مطالبہ تھا۔مذہبی عالم نے اس درخواست کی تائید کرنے سے گریز کیا اور بات کو کرکٹ کے حوالے سے پاکستان کے جذباتی تعلقات کی طرف موڑ دیا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں کرکٹ کو بہت زیادہ محبت اور مقبولیت حاصل ہے، اور کھلاڑی عوام کے لیے تحریک کا سبب بنتے ہیں۔ بعض اوقات شائقین میچ دیکھتے ہوئے اتنے جذباتی ہو جاتے ہیں کہ ان کی صحت بھی متاثر ہو سکتی ہے۔عالم دین نے مزید کہا کہ پاکستان کی جیت کو قومی کامیابی سمجھا جاتا ہے اور کھلاڑیوں کو اپنی کارکردگی بہتر بنانے کی ہدایت دی۔ انہوں نے کہا کہ میچز کو صرف کھیل سمجھنے کے بجائے، انہیں قومی ذمہ داری کے طور پر لینا چاہیے۔
انہوں نے یہ بھی مشورہ دیا کہ گرین شرٹس کو ہمسایہ ملک کے خلاف کھیلتے وقت صبر و تحمل سے کام لینا چاہیے۔گفتگو کے دوران، انہوں نے قوم کے اتحاد اور حوصلہ افزائی کا بھی ذکر کیا، اور ’بنیان مرصوص‘ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ اس موقع پر 6 بھارتی جنگی طیارے پاکستان فضائیہ نے مار گرائے تھے، جو قوم کے اتحاد اور دفاعی قوت کی علامت ہے۔یہ واقعہ سوشل میڈیا پر وائرل ہو گیا ہے اور لوگوں کے درمیان سرخیوں کا موضوع بن گیا ہے، کیونکہ اس میں مذہبی اور کرکٹ کے جذبات کو ملانے کی کوشش کی گئی ہے۔