ایران میں حکومت کے خلاف احتجاج کا ایک نیا سلسلہ شروع ہو گیا ہے، جس میں طلبہ اور عوام کی بڑی تعداد سڑکوں پر آ گئی ہے۔
خبر ایجنسی کے مطابق، 8 جامعات میں طلبہ نے پیر کو دوسرے دن بھی حکومت کے خلاف مظاہرے کیے، جس میں انہوں نے ایرانی حکومت کے خلاف نعرے لگائے۔ مظاہرین نے انقلاب ایران سے پہلے کے شیر اور سورج کی تصاویر والے ایرانی پرچم بھی اٹھائے تھے، جو ملک کے قدیم اور قومی علامات کی نمائندگی کرتے ہیں۔مظاہروں کے دوران کچھ مقامات پر مظاہرین اور سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں کی اطلاعات بھی ملی ہیں، جس سے صورتحال کشیدہ ہوتی جا رہی ہے۔ یاد رہے کہ جنوری میں بھی ایران بھر میں وسیع پیمانے پر احتجاج ہوا تھا، جس میں سکیورٹی فورسز اور مظاہرین کے درمیان شدید تصادم دیکھنے میں آئے تھے۔
دوسری طرف، امریکی صدر نے ایران میں جاری کریک ڈاؤن کے بعد سکیورٹی فورسز کو خبردار کیا ہے کہ اگر مظاہرین پر تشدد کا سلسلہ بند نہ کیا گیا تو اس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ امریکی صدر کا یہ بیان اس تناظر میں آیا ہے کہ ایران میں حالیہ احتجاجی تحریک کو دبانے کے لیے سکیورٹی اقدامات سخت کیے جا رہے ہیں، اور عالمی سطح پر ایران کے حالیہ احتجاج کو انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا جا رہا ہے۔