سابق وفاقی وزیر اور پی ٹی آئی رہنما اسد عمر نے خبردار کیا ہے کہ اگر ملک کے بڑے مسائل کو سنجیدگی سے حل نہ کیا گیا تو اس کے سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ فاٹا کے ضم شدہ اضلاع کے عوام سے ریاست نے وعدے کیے تھے کہ انہیں اضافی وسائل دیے جائیں گے، مگر یہ وعدے اب تک پورے نہیں کیے گئے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں خیبر پختونخوا اور فاٹا کے عوام نے سب سے زیادہ قربانیاں دی ہیں، جنہیں نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔اسد عمر کا کہنا تھا کہ اس معاملے پر اتفاقِ رائے کے ذریعے آگے بڑھنا ضروری ہے تاکہ فاٹا اور خیبر پختونخوا کے عوام کو ان کے حقوق دیے جا سکیں اور ملک میں استحکام پیدا ہو۔