بیوہ کوٹہ کے پلاٹوں بارے کابینہ کوئی فیصلہ نہ کرسکی

پہلی انکوائری میں پالیسی کی خلاف ورزی ، ریکوری نہ کرنے کا انکشاف
لاہور (کرائم رپورٹر) ایل ڈی اے بیوہ کوٹہ کے تحت پلاٹوں کی الاٹمنٹ کا معاملہ، ایل ڈی اے انتظامیہ تین دہائی پرانے بیوہ کوٹہ کے سکینڈل کی گتھی نہ سلجھا سکا، 1993 میں ہونے والے پہلی انکوائری میں پالیسی کی خلاف ورزی ہوئی اور قسطوں میں ریکوری نہ کرنے کا انکشاف ہوا ، 2005 میں مزید تحقیقات سے پتہ چلا کہ 359 پلاٹس جعلی طور پر الاٹ کیے گئے تھے، 2006 میں ایل ڈی اے نے تحقیقات کے بعد 343 پلاٹس کو اپنی ملکیت قرار دے دیا، 2013 میں مزید چھان بین کے بعد فائلوں کو مختلف کیٹیگریز میں تقسیم کیا گیا، جن میں بعض درست، بعض مشکوک اور بعض جعلی پائیگئے، ایل ڈی اے نے سفارشات پیش کیں کہ 359 جعلی الاٹمنٹ کو منسوخ کر کے پلاٹس کوواپس ایل ڈی اے کی ملکیت میں لے لیا جائے۔ زکوٰ? سرٹیفکیٹ پر دیے گئے پلاٹس کی قیمت وصول کی جائے کیونکہ زکوٰ? ڈیپارٹمنٹ نے ادائیگی نہیں کی۔ جعلی الاٹمنٹ کے ذریعے حاصل کیے گئے پلاٹس کو بازیاب کیا جائے۔ پلاٹس کے تبادلے کی تحقیقات کی جائیں اور انہیں ضابطے کے مطابق ریگولرائز کیا جائے۔