لاہور(آئی این پی )پاکستان میں فروری کے دوران کم شدت کے تقریبا 20 زلزلوں کے جھٹکے محسوس کئے گئے ۔ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ معمولی زلزلے کی سرگرمیاں دراصل سلور لائننگ ہیں، اس طرح کے جھٹکے پلیٹوں کے اندر جمع شدہ توانائی کو مسلسل خارج کر کے زیادہ شدت والے زلزلوں کو روکتے ہیں۔ہمالیائی خطے میں بڑے زلزلے کی سرگرمی تقریبا 100 سال کے سائیکل پر ہوتی ہے۔ماہرین کے مطابق پاکستان 3 بڑی ٹیکٹونک پلیٹوں عرب، یورو ایشین اور انڈین پر واقع ہے جو ایک دوسرے کو اٹھاتی ہیں، زیر کرتی ہیں اور توانائی اور حرکت فراہم کرتی ہیں، سندھ اور پنجاب انڈین پلیٹ پر واقع ہیں، جبکہ بلوچستان کے مغربی حصے اور خیبر پختونخوا کے کچھ علاقے یوریشین پلیٹ پر واقع ہیں، جو بنیادی طور پر ایرانی سطح مرتفع پر مشتمل ہے اور انڈین پلیٹ کو چھوتا ہے۔اس سے پاکستان کے علاقوں میں 5 زلزلے کے علاقے سامنے آتے ہیں، متعدد فالٹ لائنز کے چوراہے کا مطلب ہے کہ اس خطے میں ٹیکٹونک حرکات اکثر ہوتی رہتی ہیں۔