آئوٹ سورسنگ ماڈل ناکام ،نظام بہتر ی کے بجائے خراب ہوا ،سینیٹر دنیش کمار
وزارت داخلہ و خزانہ مشاورت سے فنڈز انتظامی مسائل حل کریں، کنوینر کمیٹی
اسلام آباد (بیورو رپورٹ)سینیٹ ہائوس کمیٹی کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس کنوینر سینیٹر ناصر محمود بٹ کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہائوس میں ہوا، اجلاس میں پارلیمنٹ لاجز کی مرمت، صفائی و لفٹ سروسز کی آئوٹ سورسنگ، گزشتہ دو سال کے اخراجات اور سینیٹرز کے لئے 104 نئے لاجز کی تعمیر کا جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں جنٹوریل اور لفٹ سروسز کی آئوٹ سورسنگ پر شدید اختلاف سامنے آیا۔ سینیٹر دنیش کمار نے کہا کہ گزشتہ چھ سال سے آئوٹ سورسنگ ماڈل ناکام ہے، نظام بہتر ی کے بجائے خراب ہوا ۔، لفٹ آپریٹرز خصوصاً نائٹ شفٹ میں غیر حاضر رہتے ہیں جس سے سینیٹرز کے پھنسنے کا خدشہ ہے۔کمیٹی نے عملے کی ڈیوٹی لسٹ، حاضری ریکارڈ اور سی سی ٹی وی فوٹیج کے ذریعے حاضری چیک کرنے اور غیر حاضر عملے کے خلاف کارروائی کی ہدایت دی۔سینیٹر وقار مہدی نے مرمتی کاموں میں تاخیر، ناقص معیار، ٹھیکیداروں کی من مانی اور نگرانی کے فقدان پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے تھرڈ پارٹی آڈٹ اور شفافیت کا مطالبہ کیا۔ کنوینر کمیٹی نے تمام گھروں کے اخراجات اور کاموں کی مکمل تفصیلات طلب کر لیں ۔کمیٹی نے وزارت داخلہ، وزارت خزانہ اور سی ڈی اے کو ہدایت کی کہ فنڈز اور انتظامی مسائل باہمی مشاورت سے جلد حل کیے جائیں جن لاجز میں مرمت مکمل ہو چکی ہے وہاں سینیٹرز سے تسلی بخش سرٹیفکیٹ لیا جائے۔ آئندہ اجلاس میں چیئرمین سی ڈی اے اور متعلقہ افسران کی شرکت یقینی بنانے کی بھی ہدایت کی گئی۔اجلاس میں سینیٹر دنیش کمار، سینیٹر ہدایت اللہ خان سمیت متعلقہ وزارتوں اور سی ڈی اے کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی، جبکہ سینیٹر وقار مہدی نے آن لائن شرکت کی۔