پنجاب میں بلدیاتی الیکشن ، عوام کا حق، حکومت کی ذمہ داری

عامرسہیل مٹو
پاکستان کے بڑے اور آبادی کے لحاظ سے اہم صوبے پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کا نہ ہونا ایک سنگین آئینی اور اخلاقی بحران کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ کروڑوں عوام جو اپنی روزمرہ زندگی میں گلی، محلے اور قصبے کی سطح پر بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں، وہ اس خلا کی قیمت اپنی تکالیف سے ادا کر رہے ہیں۔ آئینِ پاکستان کا آرٹیکل 140-A ہر صوبائی حکومت کو پابند کرتا ہے کہ وہ بلدیاتی ادارے قائم کرے اور انہیں سیاسی، انتظامی اور مالی اختیارات تفویض کرے مگر یہ آئینی حکم برسوں سے معطل پڑا ہے۔جمہوریت کی اصل روح یہ ہے کہ اقتدار اوپر سے نیچے نہیں بلکہ نیچے سے اوپر کی طرف سفر کرے۔ جب تک عام شہری اپنے گلی محلے کی سطح پر اپنا نمائندہ منتخب نہیں کر سکتا، اس وقت تک جمہوریت کا دعویٰ محض کاغذی کارروائی ہے۔ لاہور، فیصل آباد، راولپنڈی اور ملتان جیسے بڑے شہروں میں ٹریفک کی بدنظمی، گندے پانی کی نکاسی کا ناقص انتظام، کوڑے کے ڈھیر اور ٹوٹی پھوٹی سڑکیں یہ سب اسی خلا کی داستان ہیں جو بلدیاتی اداروں کی غیر موجودگی نے پیدا کیا ہے۔

بلدیاتی نظام دراصل جمہوریت کی تربیت گاہ ہوتا ہے۔ یہیں سے وہ سیاسی قیادت پروان چڑھتی ہے جو زمینی حقائق سے آشنا ہوتی ہے، جو عوام کی تکالیف کو دفتروں کی فائلوں میں نہیں بلکہ اپنی آنکھوں سے دیکھتی ہے۔ پنجاب میں اس تربیت گاہ کی غیر موجودگی نے ایک ایسی سیاسی نسل پیدا کی ہے جو اقتدار کے ایوانوں میں تو پہنچ جاتی ہے مگر عوام کے دکھ سے بے خبر رہتی ہے۔یہ سوال اکثر اٹھایا جاتا ہے کہ حکمران جماعتیں بلدیاتی انتخابات سے کیوں گریزاں رہتی ہیں؟ اس کا جواب سیدھا اور تلخ ہے ، اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی انہیں اپنے سیاسی کنٹرول کے لیے خطرہ دکھائی دیتی ہے۔ ترقیاتی فنڈز، سرکاری منصوبے اور انتظامی فیصلے سب کچھ صوبائی حکومت کی مٹھی میں بند رکھنا سیاسی طور پر زیادہ ’’سہولت بخش‘‘ لگتا ہے۔ مگر اس سہولت کی قیمت پورا پنجاب ادا کر رہا ہے۔دیہی پنجاب کی صورتحال اور بھی تشویشناک ہے۔ لاکھوں افراد ابھی تک پینے کے صاف پانی، سیوریج کے بنیادی نظام اور پکی سڑکوں جیسی سہولتوں سے محروم ہیں۔ صوبائی حکومتیں ان علاقوں کو اپنے منظور نظر افسران کے ذریعے چلانے کی کوشش کرتی ہیں جو نہ تو مقامی مسائل سے آگاہ ہوتے ہیں اور نہ ہی ان کے سامنے جواب دہ۔ منتخب بلدیاتی نمائندہ اس لیے بہتر ہوتا ہے کیونکہ وہ اپنے ووٹروں کو جانتا ہے اور انہی کے سامنے جوابدہ ہے۔

بلدیاتی نظام خواتین اور اقلیتوں کی سیاسی شمولیت کے لیے بھی ایک مؤثر ذریعہ ہے۔ مخصوص نشستوں کے ذریعے وہ طبقات جو قومی اور صوبائی سیاست میں حاشیے پر دھکیل دیے جاتے ہیں، مقامی سطح پر اپنی نمائندگی حاصل کر سکتے ہیں۔ پنجاب میں کروڑوں خواتین ووٹر ہیں مگر فیصلہ سازی کے عمل میں ان کا حصہ نہ ہونے کے برابر ہے ، بلدیاتی ادارے اس صورتحال کو بدل سکتے ہیں۔مالی وسائل کی منتقلی بھی ایک اہم پہلو ہے۔ جب بلدیاتی ادارے فعال ہوتے ہیں تو ترقیاتی فنڈز کا استعمال زیادہ شفاف اور نتیجہ خیز ہوتا ہے۔ مقامی سطح پر عوام اپنے نمائندے سے براہِ راست سوال کر سکتے ہیں کہ فلاں سڑک کیوں نہیں بنی، فلاں نالے کی صفائی کیوں نہیں ہوئی۔ یہی احتساب جمہوریت کو معنی خیز بناتا ہے۔عدالتِ عظمیٰ بھی متعدد بار حکومتِ پنجاب کو بلدیاتی انتخابات کروانے کی ہدایت کر چکی ہے مگر مختلف قانونی اور انتظامی بہانوں سے اس حکم پر عمل درآمد نہیں کیا گیا۔ یہ صورتحال نہ صرف آئین کی خلاف ورزی ہے بلکہ عدلیہ کے وقار کے لیے بھی ایک سنگین چیلنج ہے۔

وقت آ گیا ہے کہ حکومتِ پنجاب اس معاملے میں سنجیدگی کا مظاہرہ کرے۔ سیاسی مصلحتوں کو بالائے طاق رکھ کر آئینی ذمہ داری پوری کی جائے۔ بلدیاتی الیکشن کا شیڈول فوری طور پر دیا جائے اور اس عمل کو شفاف، آزادانہ اور منصفانہ بنایا جائے۔ پنجاب کے عوام نے بہت انتظار کیا ہے ، اب مزید تاخیر نہ صرف ناانصافی ہوگی بلکہ جمہوریت کے ساتھ ایک سنگین مذاق بھی۔ایک مضبوط اور فعال بلدیاتی نظام ہی وہ بنیاد ہے جس پر پنجاب کی حقیقی اور پائیدار ترقی کی عمارت تعمیر ہو سکتی ہے۔ اس بنیاد کو مزید کمزور نہ ہونے دیا جائے۔