ناسا کا خلائی جہاز سورج کے قریب پہنچنے کی تاریخ ساز کوشش

ناسا کا خلائی جہاز سورج کے قریب پہنچنے کی تاریخ ساز کوشش

ناسا کا "پارکر سولر پروب" خلائی جہاز سورج کے انتہائی قریب پہنچ کر ایک اہم سائنسی تجربہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

یہ خلائی جہاز جو 12 اگست 2018 کو خلا میں بھیجا گیا تھا، سورج کے مرکز کے قریب پہنچنے کی کوشش میں مسلسل اس کی بیرونی فضا کی طرف بڑھ رہا ہے۔ سورج کے قریب پہنچنے کی یہ کوشش انتہائی پیچیدہ اور خطرناک ہے کیونکہ یہاں کی شدید تابکاری اور درجہ حرارت 1400 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ سکتے ہیں۔ناسا کے سائنسدان اس مشن سے یہ امید رکھتے ہیں کہ 27 دسمبر 2024 تک خلائی جہاز سے سگنلز موصول ہوں گے جو اس بات کا پتہ دیں گے کہ آیا یہ خلائی جہاز سورج کے قریب پہنچنے کے لیے درکار سخت ترین مراحل کو کامیابی سے عبور کر چکا ہے یا نہیں۔ ان سگنلز کی مدد سے سورج کی حقیقت اور اس کے ماحول کو سمجھنے میں بھی مدد ملے گی، کیونکہ اس وقت تک انسان نے سورج کے ماحول کو براہ راست نہیں تجربہ کیا۔یہ خلائی جہاز "پارکر سولر پروب" سورج کے انتہائی نزدیک جانے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اس کے اندر ایک خاص قسم کی شیلڈ نصب کی گئی ہے تاکہ یہ خلائی جہاز تابکاری اور شدید حرارت سے محفوظ رہ سکے۔

 اس شیلڈ کا مواد 11.5 سینٹی میٹر موٹا ہے اور یہ کاربن سے بنی ہوئی ہے، جو اسے درجہ حرارت اور تابکاری سے بچاتی ہے۔ اس خلائی جہاز کی رفتار 430,000 میل فی گھنٹہ ہے، جو اسے دنیا کے سب سے تیز رفتار خلائی جہاز میں سے ایک بناتی ہے۔اس مشن کا مقصد سورج کی حقیقت، اس کی ساخت، اور اس کے برتاؤ کو سمجھنا ہے تاکہ نہ صرف ہمارا سورج بلکہ دیگر ستاروں کے بارے میں بھی نئے سائنسی حقائق دریافت کیے جا سکیں۔ یہ مشن سائنسدانوں کو سورج کے اندرونی حصوں اور بیرونی فضا کے بارے میں نیا علم فراہم کرے گا، جو اس سے قبل ممکن نہیں تھا۔

ناسا کے سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ سورج کا قریب سے مطالعہ کرنے کے لیے ہم اس کے ماحول میں براہ راست نہیں جا سکتے تھے، لیکن "پارکر سولر پروب" نے اس خلائی مشن کے ذریعے اس ناممکن کو ممکن بنایا ہے۔ اس مشن کی کامیابی سورج کے طرز عمل کو سمجھنے میں اہم سنگ میل ثابت ہوگی اور یہ ہماری خلا کے حوالے سے علم میں انقلابی تبدیلی لا سکتی ہے۔

"پارکر سولر پروب" کی کامیابی سے یہ بھی پتہ چلے گا کہ سورج کے قریبی ماحول میں کیا حقیقت میں ایسے عناصر ہیں جو زمین کی فضا اور موسم پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ ان سگنلز کی مدد سے سائنسدان سورج کے طوفانوں، اس کی کرنوں، اور اس کے مقناطیسی میدان کے بارے میں مزید معلومات حاصل کر سکیں گے۔