اسلام آباد ہائی کورٹ میں لاپتا شہری مدثر خان کی بازیابی کے کیس کی سماعت کے دوران جسٹس محسن اختر کیانی نے لاپتا افراد کمیشن کی کارکردگی پر سخت برہمی کا اظہار کیا۔
انہوں نے کہا کہ یہ کمیشن نہ تو کام کرتا ہے اور نہ ہی کام کرنے دیتا ہے، اور اس کا صرف مقصد لوگوں کو دھوکہ دینا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر یہ کمیشن واقعی کام کرتا تو درخواست گزار یہاں ہائی کورٹ کیوں آتی؟کیس کی سماعت کے دوران، درخواست گزار ناظمہ فتح یاب کی جانب سے وکیل ایمان زینب مزاری عدالت میں پیش ہوئیں، جبکہ اسسٹنٹ اٹارنی جنرل اور وزارتِ دفاع کا نمائندہ بھی عدالت میں موجود تھے۔ ایمان مزاری ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ درخواست گزار کا شوہر مدثر خان آزاد کشمیر کے شہر مظفرآباد سے لاپتا ہوا تھا، اور وہاں ایف آئی آر بھی درج کی گئی تھی۔ انہوں نے مزید کہا کہ درخواست گزار کو 18 نومبر کو ایک کال آئی تھی، جس میں اس کے شوہر نے بتایا کہ وہ ایجنسی کی حراست میں ہیں۔ درخواست گزار کے شوہر کی جانب سے یہ بھی کہا گیا تھا کہ اگر ہائی کورٹ سے درخواست واپس لے لی جائے تو کچھ دنوں میں وہ گھر واپس آ جائیں گے۔
اس موقع پر جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے کہ چونکہ کال آئی ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ زندہ اور صحیح و سالم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ افسران آئیں اور ان کیمرہ بریفنگ دیں، اس کے بعد مزید کارروائی کی جائے گی۔ عدالت نے کیس کی مزید سماعت 27 دسمبر تک ملتوی کر دی اور اس دوران ڈی جی ایم آئی کو بند لفافہ رپورٹ جمع کرانے کا حکم دیا۔اس کے علاوہ، عدالت نے سوال کیا کہ کیا آزاد کشمیر کی فوج، آئی ایس آئی اور ایم آئی ایک ہی ادارہ ہیں یا مختلف؟ اس پر اسسٹنٹ اٹارنی جنرل نے کہا کہ یہ واقعہ مظفرآباد میں پیش آیا ہے اور وہاں ایف آئی آر درج ہے۔ اس کے باوجود عدالت نے کمیشن کی کارکردگی پر مزید سوالات اٹھائے اور اسے بند کرنے کی تجویز دی۔