برطانوی اخبار دی ٹیلی گراف نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) بھارت کے مفادات کو ترجیح دے کر کرکٹ کی ساکھ کو متاثر کر رہا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چیمپئینز ٹرافی کی میزبانی کے حوالے سے بھارت کی طاقت کا مظاہرہ پاکستان کو فائنل کی میزبانی سے روکنے کے لیے کیا جا رہا ہے، جو کرکٹ کی تاریخ میں بے مثال ہے۔
اخبار کے مطابق، بھارت اپنے اثر و رسوخ کا استعمال کرتے ہوئے اس ایونٹ کی میزبانی کے فیصلے میں مداخلت کر رہا ہے، جس کی وجہ سے 4 مارچ تک چیمپئینز ٹرافی کے فائنل کی میزبانی کا فیصلہ بھی نہیں ہو سکا۔ لاہور کو 1996 کے ورلڈکپ کے بعد چیمپئینز ٹرافی فائنل کی میزبانی کی تیاریوں کا سامنا ہے، مگر ابھی تک یہ غیر واضح ہے کہ آیا فائنل لاہور میں ہوگا یا نہیں۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ 2021 میں پاکستان کو چیمپئینز ٹرافی کی میزبانی دینے سے پہلے بھارتی کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) کے دباؤ کی وجہ سے آئی سی سی نے پاکستان کو ہائبرڈ ماڈل پر ایونٹ کرانے پر مجبور کیا، یعنی بھارت کے میچز دوسرے ممالک میں کھیلنے کی اجازت دی گئی۔
اخبار نے مزید کہا کہ آئی سی سی کے ایونٹس میں بھارت کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے کھیل کی ساکھ کو قربان کیا جا رہا ہے۔ 2019 کے ورلڈکپ میں بھارت نے ایونٹ کے آغاز کے 8 دن بعد اپنے میچز کھیلنا شروع کیے، اور آئی پی ایل کے اختتام کے بعد انٹرنیشنل میچز میں وقفہ رکھا گیا۔ اس کے علاوہ، بھارت کو ورلڈکپ اور ٹی20 میں کمزور حریفوں کے خلاف اپنے آخری میچز کھیلنے کے مواقع دیے گئے۔
چیمپئینز ٹرافی میں، بھارت کو ایک ملک کی کنڈیشنز کے مطابق اسکواڈ تشکیل دینا ہوگا، جبکہ دیگر 7 ٹیموں کو دو ملکوں کی کنڈیشنز کے مطابق اپنے اسکواڈز کو تیار کرنا ہوگا۔ اس تمام صورتحال سے ظاہر ہوتا ہے کہ بھارت کے مفادات کے لیے آئی سی سی کرکٹ کے اصولوں کو نظر انداز کر رہا ہے، جو کھیل کی سالمیت پر سوالات اٹھاتا ہے۔