برطانوی اخبار ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق ایران کے نئے مقرر کردہ سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای اس وقت بے ہوشی کی حالت میں ایران کے شہر قم کے ایک ہسپتال میں زیرِ علاج ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یہ معلومات ایک سفارتی میمو سے حاصل ہوئی ہیں، جو امریکی اور اسرائیلی انٹیلی جنس ذرائع نے اپنے خلیجی اتحادیوں کے ساتھ شیئر کی تھی۔ میمو کے مطابق، 28 فروری کے فضائی حملے میں ان کے والد اور ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای شہید ہوئے، اور مجتبیٰ خامنہ ای شدید زخمی ہوئے۔میمو کے مطابق شدید زخمی ہونے کی وجہ سے وہ ملک چلانے کے قابل نہیں ہیں اور حکومتی فیصلوں میں حصہ نہیں لے پا رہے۔ قم شہر، جو دارالحکومت تہران سے تقریباً 87 میل جنوب میں واقع ہے، ان کے زیرِ علاج ہونے کی جگہ ہے۔اس حملے کے بعد پہلی بار ان کی موجودگی اور صحت کے بارے میں واضح معلومات سامنے آئی ہیں۔
امریکی اور اسرائیلی انٹیلی جنس اداروں کو پہلے ہی ان کے مقام کا علم تھا، تاہم یہ معلومات عوام کے سامنے ظاہر نہیں کی گئی تھیں۔دوسری جانب، مجتبیٰ خامنہ ای کی عوامی عدم موجودگی نے مختلف افواہیں جنم دی تھیں، جن میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ وہ حملے میں شہید ہو گئے، لیکن ایرانی حکام نے تصدیق کی ہے کہ وہ زندہ ہیں، ملک کے معاملات چلا رہے ہیں، اور 28 فروری کے حملے میں زخمی ہوئے تھے۔ایرانی سرکاری ٹی وی پر ان سے منسوب بیانات نشر کیے گئے، اور حال ہی میں ایک ویڈیو جاری کی گئی جس میں انہیں وار روم میں اسرائیل کے شہر ڈیمونا میں جوہری تنصیب کے نقشے کا جائزہ لیتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔