نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار 24 سے 28 اگست 2026 تک جاری رہنے والے سرکاری دورے پر لندن پہنچ گئے ہیں، جہاں وہ برطانوی حکومت کے اعلیٰ حکام اور عالمی اداروں کے نمائندوں سے اہم ملاقاتیں کریں گے۔
لندن کے ہیتھرو ایئرپورٹ پر برطانیہ میں پاکستان کے ہائی کمشنر ٹیپو عثمان اور دیگر سفارتی حکام نے نائب وزیراعظم کا استقبال کیا۔ اسحاق ڈار کے دورے کو پاکستان اور برطانیہ کے درمیان دوطرفہ تعلقات، سفارتی روابط اور علاقائی سلامتی کے حوالے سے اہم قرار دیا جارہا ہے۔
برطانوی وزیر خارجہ سے ملاقات
دورے کے دوران اسحاق ڈار برطانوی وزیر خارجہ ایڈ ملی بینڈ سے ملاقات کریں گے۔ ملاقات میں پاکستان اور برطانیہ کے باہمی تعلقات، علاقائی اور عالمی صورتحال سمیت باہمی دلچسپی کے مختلف امور پر تبادلہ خیال متوقع ہے۔نائب وزیراعظم پاکستان کے لیے برطانوی فارن، کامن ویلتھ اینڈ ڈویلپمنٹ آفس (FCDO) کے وزیر مملکت اسٹیفن ڈوٹی سے بھی ملاقات کریں گے۔ذرائع کے مطابق برطانوی حکومت کے دیگر اعلیٰ حکام کے ساتھ بھی ملاقاتیں متوقع ہیں، جن میں دوطرفہ تعاون کو مزید وسعت دینے اور باہمی دلچسپی کے امور پر بات چیت کی جائے گی۔
بحری سلامتی بھی ایجنڈے کا اہم حصہ
اسحاق ڈار دورہ لندن کے دوران انٹرنیشنل میری ٹائم آرگنائزیشن (IMO) کے سیکرٹری جنرل آرسینیو ڈومنگیز سے بھی ملاقات کریں گے۔اس ملاقات میں علاقائی اور عالمی بحری سلامتی، سمندری راستوں کے تحفظ اور بحری شعبے سے متعلق اہم امور زیرِ بحث آنے کا امکان ہے۔پاکستان کے لیے بحری سلامتی خاص اہمیت رکھتی ہے کیونکہ ملک کی تجارت کا بڑا حصہ سمندری راستوں کے ذریعے انجام پاتا ہے۔ عالمی سطح پر سمندری راستوں کو درپیش سکیورٹی چیلنجز کے تناظر میں پاکستان بین الاقوامی اداروں کے ساتھ تعاون کو اہم سمجھتا ہے۔
دولتِ مشترکہ کی سیکرٹری جنرل سے ملاقات
نائب وزیراعظم دولتِ مشترکہ کی سیکرٹری جنرل شرلی ایورکور بوچوے سے بھی ملاقات کریں گے۔ملاقات میں دولتِ مشترکہ کے رکن ممالک کے درمیان تعاون، پاکستان کے کردار اور باہمی دلچسپی کے مختلف معاملات پر تبادلہ خیال متوقع ہے۔پاکستان دولتِ مشترکہ کا ایک اہم رکن ہے اور اس پلیٹ فارم کے ذریعے تجارت، تعلیم، ترقی، نوجوانوں، موسمیاتی تبدیلی اور دیگر شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے کی کوشش کرتا رہا ہے۔
پاکستان برطانیہ تعلقات میں اہم پیش رفت کی توقع
اسحاق ڈار کا لندن کا یہ دورہ ایسے وقت میں ہورہا ہے جب پاکستان اور برطانیہ کے درمیان سیاسی، سفارتی، تجارتی اور سکیورٹی روابط کو مزید مضبوط بنانے کی کوششیں جاری ہیں۔دورے کے دوران دونوں ممالک کے درمیان سفارتی و بحری تعاون سمیت علاقائی اور عالمی امور پر اہم رابطے متوقع ہیں۔ملاقاتوں میں خطے کی سکیورٹی صورتحال، عالمی سطح پر پیدا ہونے والے نئے چیلنجز، دوطرفہ تعلقات اور مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کے امکانات پر بھی گفتگو ہوسکتی ہے۔
دورے کی اہمیت
اسحاق ڈار کا لندن دورہ پاکستان کے لیے اس لحاظ سے اہم ہے کہ برطانیہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا مستقل رکن ہونے کے ساتھ ساتھ پاکستان کا ایک اہم سفارتی، معاشی اور تاریخی شراکت دار بھی ہے۔نائب وزیراعظم کی برطانوی حکام، IMO اور دولتِ مشترکہ کی قیادت سے ملاقاتیں پاکستان کو ایک ہی دورے میں دوطرفہ سفارت کاری، عالمی تعاون، بحری سلامتی اور دولتِ مشترکہ کے معاملات پر بات چیت کا موقع فراہم کریں گی۔24 سے 28 اگست تک جاری رہنے والے اس دورے کے نتیجے میں پاکستان اور برطانیہ کے درمیان اعلیٰ سطحی سفارتی رابطوں میں مزید تیزی آنے اور مختلف شعبوں میں تعاون کے نئے امکانات پیدا ہونے کی توقع ہے۔