ٹریفک اہلکار جتھوں میں صورت میں کھڑے ہوتے ہیں قانون پر عمل کرنیوالے شہریوں کو غیر ضروری نہ روکا جائے لاہور ہائی کورٹ

قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف موثر کارروائی نہیں کی جاتی‘ اگر کسی شہری کو روکا جائے تو اسے فوری طور پر اس کا جرم بتایا جانا چاہیے
 سڑکوں کے درمیان موٹر سائیکل سواروں کو روک کر گفتگو کی جاتی ہے جس سے ٹریفک جام ہو جاتی ہے  اور شہریوں کو ذہنی اذیت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
جرمانہ وصولی کیلئے پورے ٹریفک نظام کو مفلوج کرنا کسی صورت قابل قبول نہیں:جسٹس شاہد کریم ‘دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کیخلاف کارروائی نہ ہونے پر  اظہار برہمی 
 لاہور (یواین پی) لاہور ہائیکورٹ نے شہریوں کو بلاوجہ روکنے پر ٹریفک پولیس کے طرزِ عمل پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیئے  قانون کی پاسداری کرنے والے شہریوں کو غیر ضروری طور پر نہ روکا جائے، ٹریفک پولیس کی جانب سے شہریوں کو بلاوجہ روکنے سے نہ صرف عوام کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے بلکہ ٹریفک کا نظام بھی شدید متاثر ہوتا ہے۔ ہائیکورٹ کے  جسٹس شاہد کریم نے سموگ تدارک سے متعلق کیس کی سماعت کی ۔سماعت کے دوران پنجاب حکومت، ممبر ماحولیاتی کمیشن، ایل ڈی اے، پی ایچ اے کے وکلا عدالت میں پیش ہوئے جبکہ ڈپٹی ڈائریکٹر ماحولیات علی اعجاز سمیت دیگر افسر بھی موجود تھے۔ جسٹس شاہد کریم نے سماعت کے دوران ریمارکس دئیے  ٹریفک پولیس کے اہلکار سڑکوں پر جتھوں کی صورت میں کھڑے ہوتے ہیں لیکن قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف موثر کارروائی نہیں کی جاتی۔ اگر کسی شہری کو روکا جائے تو اسے فوری طور پر اس کا جرم بتایا جانا چاہیے کیونکہ پولیس قوانین میں یہ امر واضح طور پر درج ہے۔عدالت نے ریمارکس دیئے کہ سڑکوں کے درمیان موٹر سائیکل سواروں کو روک کر گفتگو کی جاتی ہے جس سے ٹریفک جام ہو جاتی ہے۔ اگر کوئی شہری یا موٹر سائیکل سوار قوانین کی مکمل پاسداری کر رہا ہو تو اسے روکنے کا کوئی جواز نہیں بنتا۔ جسٹس شاہد کریم نے دوران سماعت مزید ریمارکس دیے کہ غیر ضروری طور پر شہریوں کو روکنے سے ٹریفک کا بہائو متاثر ہوتا ہے اور شہریوں کو ذہنی اذیت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ممبر ماحولیاتی کمیشن سید کمال حیدر نے عدالت کو آگاہ کیا کہ رش کے اوقات میں ٹریفک پولیس اہلکار جرمانے جمع کرنے کے لیے شہریوں کو روکتے ہیں جس سے ٹریفک جام ہو جاتی ہے۔ اس پر عدالت نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا  جرمانہ وصولی کے لیے پورے ٹریفک نظام کو مفلوج کرنا کسی صورت قابل قبول نہیں۔جسٹس  شاہد کریم نے شہر میں دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کے خلاف موثر کارروائی نہ ہونے پر بھی برہمی کا اظہار کیا  اور حکم دیا کہ فوری طور پر ایسی گاڑیوں کے خلاف کریک ڈائون کیا جائے تاکہ سموگ کے خطرے کو کم کیا جا سکے۔عدالت نے محکمہ ماحولیات اور پی ایچ اے لاہور کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے ہدایت دی کہ متوسط طبقے کے علاقوں میں پارکس کی بحالی پر خصوصی توجہ دی جائے تاکہ وہاں کے بچوں کو بھی تفریحی سہولیات میسر آ سکیں۔عدالت نے کیس کی مزید سماعت 30 اپریل تک ملتوی کر دی۔