قائمہ کمیٹی کا 36 ارب سعودی عرب منتقل کئے جانے پر اظہار تشویش
اسلام آباد(خصوصی رپورٹ) قومی اسمبلی کی مذہبی امور کمیٹی نے 67ہزار پاکستانیوں کے حج سے محروم رہ جانے اور 36ارب روپے سعودی عرب منتقل کئے جانے کے معاملے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت کو اعلیٰ سطح پر معاملہ حل کرنے کی سفارش کی ہے ،کمیٹی نے معاملے پر وزیر اعظم سے ملاقات کیلئے تین رکنی کمیٹی بھی تشکیل دیدی۔بدھ کو قائمہ کمیٹی برائے مذہبی امور کا اجلاس چیئرمین ملک عامر ڈوگر کی سربراہی میں منعقد ہوا ۔اجلاس میں وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف سمیت سیکرٹری مذہبی امور ڈی جی حج اور دیگر حکام نے شرکت کی۔ اجلاس کو سیکرٹری مذہبی امور عطاء الرحمن نے بتایا کہ ملکی تاریخ میں پہلی بار 67ہزار عازمین حج فریضہ حج کی سعادت سے محروم ہورہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ سعودی عرب نے نئی پالیسی دی ہے کہ دوہزار سے کم کوٹہ والی کوئی نجی حج تنظیم نہیں ہوگی جس کے بعد ہم نے دیگر کئی ممالک کی طرح 904ایچ جی اوز کو 45بڑی حج کمپنیوں کے کلسٹرز میں بدل دیا۔ہمارے ٹورآپریٹرز نے ہر کمپنی سے الگ الگ معاہدے کرنے پر زور دیتے ہوئے ایک ماہ ضائع کردیا جبکہ سعودی عرب نے 14 فروری کی ڈیڈ لائن دی کہ کل رقم کا 25فیصد جمع کرائیں مگر 14 فروری تک 13620لوگوں کی رقم منتقل ہوئی جس کو قبول کرلیا گیا ۔انہوں نے کہاکہ ہماری درخواست پر اڑتالیس گھنٹوں کے لئے سعودی حکومت نے پورٹل کھول دیا ۔ اڑتالیس گھنٹوں کے بعد بھی ہماری ایچ جی اوز 3 لاکھ ڈالر بیک وقت باہر منتقل نہ کرنے کی پابندی کی وجہ سے مکمل نہ کرسکیں اور پورٹل بند ہوگیا جس کے بعد نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحق ڈار کی کوششوں سے 10ہزار عازمین کو بھیجنے کی اجازت دے دی گئی۔ انہوں نے کہاکہ ابھی بھی کوشش ہے کہ یہ مسئلہ کسی طرح حل ہوجائے اورجو پیسے ڈی جی حج کے ذریعے سعودی کمپنیوں کو گئے ہیں وہ واپس ملیں گے مگر جو پیسے سرکاری اکائونٹ سے ہٹ کر گئے ہیں ان کا کچھ نہیں کہہ سکتے ۔ اس موقع پر نجی حج ٹور آپریٹرز کے نمائندے نے کمیٹی کو بتایا کہ حج کے حوالے سے پہلی ڈیڈ لائن 23اکتوبر دی گئی جس سے پانچ روز قبل ہم نے مطلوبہ رقوم بھیج دی ،یہ ڈیڈ لائن ہمیں وزارت مذہبی امور نے نہیں بتائی ہمیں سوشل میڈیا کے ذریعے پتا چلا۔ انہوں نے کہاکہ ہمیں لوگوں سے حج درخواستیں نہیں لینے دی گئیں، ہمارے پیسے پچاس ملین ریال اوپیک کے اکائونٹ میں چلے گئے۔جہاں سے منتقل کردیئے گئے۔ چیئرمین کمیٹی نے استفسار کیا کہ رقم ایک اکائونٹ سے دوسرے اکائونٹ میں منتقلی کی غلطی کس کی تھی جس کی واپسی میں اٹھائیس دن لگ گئے تاہم نمائندہ ہوپ اور مذہبی امور دونوں اکائونٹ سے رقم منتقلی سے لاعلم نکلے۔ اس موقع پر سیکرٹری مذہبی امور نے کہاکہ ڈی جی حج کو آن لائن لے لیں اور پوچھ لیں کہ کس نے پیسے غلط اکائونٹ میں منتقل کئے اور یہ پتا کرلیں کہ پیسوں کی غلط جگہ منتقلی سے ڈیڈ لائن پر کیا فرق پڑا۔ اس موقع پر نمائندہ ہوپ نے کہاکہ سعودی حکومت ہماری رقم اپنے ڈیجیٹل اکائونٹ میں ڈھونڈتی رہی اور ہمارے پیسے ڈی جی حج کے ذریعے کسی اور غلط اکائونٹ میں موجود تھے۔ انہوں نے کہاکہ تقریباً سوا مہینہ پچاس ملین ریال کی واپسی میں لگ گیا۔ انہوں نے کہاکہ ڈیڈ لائن کو پورا کرنے میں کئی رکاوٹیں کھڑی کی گئیں۔ وزارت مذہبی امور پہلے اپنے سرکاری سکیم کے حاجیوں کو پورا کرنے میں لگی رہی تاکہ جو بچ جائیں وہ نجی سکیم کو مل جائیں۔چیئرمین کمیٹی نے کہاکہ یہ تاریخ کا بہت بڑا سکینڈل ہے اس سکینڈل کے ذمہ داروں کا تعین ہونا چاہیے۔ رکن کمیٹی شگفتہ جمانی نے کہاکہ محسوس ہورہا ہے کہ عازمین حج کے معاملے میں وزارت مذہبی امور اور پرائیویٹ آپریٹرز دونوں ذمہ دار ہیں۔ انہوں نے کہاکہ قائمہ کمیٹی ایک دو ممبران کی کمیٹی بنائے جو اس اہم مسئلے پر وزیراعظم سے ملاقات کرے اور وزیراعظم سے عازمین حج کا مسئلہ حل کرنے میں مدد کی درخواست کی جائے ۔