برطانیہ کے شہر یارک (قدیم ایبوراکم) میں ایک قدیم رومن قبرستان سے دریافت ہونے والے انسانی ڈھانچے پر شیر کے دانتوں کے واضح نشانات ملے ہیں، جو اس بات کا ثبوت فراہم کرتے ہیں کہ رومن دور میں انسانوں کو جنگلی جانوروں سے لڑوایا جاتا تھا۔
یہ ڈھانچہ 1,800 سال پرانا ہے اور اس کی کھوج ڈریفیلڈ ٹیرس کے علاقے میں کی گئی تھی۔ تحقیقی ٹیم نے 3D اسکیننگ کے ذریعے اس ڈھانچے کے پیلوِک ہڈی پر شیر کے دانتوں کے نشانات کی تصدیق کی۔ اگرچہ یہ واضح نہیں کہ شیر کے حملے سے ہی اس کی موت واقع ہوئی یا بعد میں زخموں سے، تاہم یہ دریافت رومن برطانیہ میں جنگلی جانوروں کے ساتھ انسانوں کی لڑائیوں کے بارے میں موجود تاریخی روایات کو سائنسی طور پر ثابت کرتی ہے۔ اس دریافت سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ رومن سلطنت کے دور میں برطانیہ تک شیر جیسے جنگلی جانور لائے جاتے تھے، جو اس وقت کے تفریحی اور سزاؤں کے طریقوں کا حصہ تھے۔
یہ دریافت رومن برطانیہ میں انسانوں اور جنگلی جانوروں کے درمیان لڑائیوں کے بارے میں ہمارے علم کو مزید مستحکم کرتی ہے۔ اس تحقیق میں مائینوتھ یونیورسٹی اور کنگز کالج لندن کے ماہرین نے حصہ لیا۔ اس دریافت کے بعد، یارک کے مقامی عجائب گھر میں اس موضوع پر نمائش بھی کی گئی ہے، جہاں زائرین اس تاریخی دریافت کے بارے میں مزید معلومات حاصل کر سکتے ہیں۔ یہ دریافت رومن دور کے تفریحی طریقوں اور برطانیہ میں رومن اثرات کے بارے میں ہمارے علم میں ایک اہم اضافہ ہے۔