بھارت: جنگلی جانوروں کے حملوں میں 8 ماہ کے دوران 50 افراد جان کی بازی ہار گئے

بھارت: جنگلی جانوروں کے حملوں میں 8 ماہ کے دوران 50 افراد جان کی بازی ہار گئے

بھارتی ریاست مدھیہ پردیش میں جنگلی جانوروں کے حملوں میں شدت آ گئی ہے، جس کے باعث اب تک 2026ء کے پہلے 8 ماہ میں کم از کم 50 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

محکمہ جنگلات کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق، اس عرصے میں 45 سے زائد شیروں کو بھی مار دیا گیا ہے۔ان ہلاکتوں میں 22 افراد شیروں، 8 جنگلی سوروں، 7 ہاتھیوں، 4 ریچھوں اور 1 تیندوے کے حملوں میں جان سے گئے ہیں۔ہلاک ہونے والوں میں کم از کم 16 خواتین اور لڑکیاں شامل ہیں۔ریپورٹ کے مطابق، مارچ، اپریل اور مئی کے مہینے سب سے زیادہ خطرناک ثابت ہوئے، جن میں بالترتیب 7، 13 اور 10 افراد ہلاک ہوئے۔یہ وہ عرصہ بھی تھا جب دیہی اور قبائلی علاقے جنگلات کا رخ کرتے ہیں تاکہ جنگلاتی اشیاء جمع کر سکیں، جس سے انسانوں اور جنگلی جانوروں کے درمیان تصادم بڑھ گیا ہے۔پانچ سالوں میں، جنگلی جانوروں کے حملوں کے نتیجے میں 406 افراد جان سے جا چکے ہیں، اور 5,804 زخمی ہوئے ہیں۔اسی دوران، 72,627 مویشی بھی حملوں کا نشانہ بنے۔

ریاستی حکام نے اس دوران انسانی ہلاکتوں اور مویشیوں کے نقصان کے معاوضے کے طور پر 88.38 کروڑ روپے سے زائد کی رقم ادا کی ہے۔قومی مردم شماری 2022 کے مطابق، مدھیہ پردیش میں شیروں کی تعداد 785 تھی، جو اب تقریباً 1 ہزار تک پہنچ چکی ہے، مگر ان کے لیے محفوظ جنگلاتی علاقہ اسی رفتار سے کم ہو رہا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ شیروں کی تعداد میں اضافے کے مقابلے میں ان کے لیے جنگلاتی رقبہ کم ہونا ایک بڑا مسئلہ بن چکا ہے۔