اسلام آباد (یواین پی) ملک میں اولڈ ایج بینیفٹ پینشن کی مد میں 5 ہزار سے زائد افراد کو 2 ارب 79 کروڑ روپے کی غلط ادائیگیوں کا انکشاف سامنے آگیا۔ تفصیلات کے مطابق چیئرمین جنید اکبر کی زیر صدارت پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس ہوا، جس میں وزارت اوورسیز پاکستانی کے آڈٹ پیراز کا جائزہ لیا گیا، اس موقع پر آڈٹ حکام نے بتایا کہ ای او بی آئی نے 2 ارب 79 کروڑ روپے کی فیک پنشنرز کو ادائیگی کی، ملازمین کی عمر میں تبدیلی کرکے 5 ہزار افراد کو پینشن دی گئی۔اس کے جواب میں ای او بی آئی حکام نے کہا کہ ’ای او بی آئی کے فنڈ کی مالیت 600 ارب روپے ہے، شناختی کارڈ کی تاریخ پیدائش کے علاوہ ہم دیگر ذرائع سے بھی عمر چیک کرتے ہیں‘، جس پر جنید اکبر نے پوچھا کہ ’یہ بتائیں کیا میٹرک کی سند اور شناختی کارڈ پر عمر الگ الگ ہو سکتی ہے؟‘سیکرٹری اوورسیز نے کہا ’آڈٹ حکام نے 8 لاکھ پنشنرز میں سے 5 ہزار پنشنرز کے کوائف کو غلط کہا ہے، آڈٹ حکام نے پنشن کے ڈیٹا پر ڈیٹ آف برتھ کا چیک لگا کر یہ ڈیٹا حاصل کیا، یہ پنشنرز 1950ء اور 1960ء کی تاریخ پیدائش والے ہیں، یہ پنشنرز شناختی کارڈ اور نادرا سے پہلے دور کے ہیں، اب شناختی کارڈ پر ہی پنشن کیس کو سیٹل کیا جائے گا، ای او بی آئی کی پنشن یکم مئی سے بڑھائی جائے گی