آئندہ پنشن سروس کے آخری 24 ماہ کی بنیاد پر مقرر کی جائے گی ڈبل پنشن لینے پر پابندی

اہم عہدوں پر فائز افسر صرف ایک پنشن حاصل کرنے کے مجاز ہوں گے‘ پنشن میں سالانہ اضافہ پہلی پنشن پر لاگو کیا جائے گا
پے اینڈ پنشن کمیشن ہر 3 سال بعد بنیادی پنشن پر نظرثانی کریگا‘ وزارت خزانہ نے سفارشات فوری نافذ کر دیں‘نوٹیفیکشن جاری
اسلام آباد(یواین پی)سرکاری ملازمین کیلئے پنشن اب آخری دوسال کی اوسط تنخواہ کی بنیاد پر مقرر کی جائیگی،حکومت نے پنشن اصلاحات پر آئی ایم ایف کا بڑا مطالبہ پورا کر دیا،سرکاری ملازمین کی پنشن کے حساب کتاب کا طریقہ کار تبدیل کردیاگیا، سرکاری ملازمین کی پنشن کی کیلکولیشن کے طریقہ کار میں تبدیلی کا نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا،میڈیا رپورٹس کے مطابق یکم جنوری 2025 سے پنشن آخری دو سال کی اوسط تنخواہ کی بنیاد پر مقرر کی جائے گی۔سرکاری افسران اورملازمین پر ڈبل پنشن لینے پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔حکومت کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق سرکاری ملازمین صرف ایک پنشن لے سکیں گے۔ حاضر سروس ملازمین پنشن نہیں لے سکیں گے۔ ریٹائرمنٹ پر ملنے والی پنشن کی بنیاد پر ہی مستقبل میں اضافہ ہوا کرے گا۔وزارت خزانہ کی جانب سے باضابطہ طور پر نوٹیفکیشن جاری کردئیے گئے ہیں جن کے ذریعے سرکاری افسران اورملازمین کی پنشن میں بڑی تبدیلیاں کردی ہیں۔نوٹیفکیشن پنشن میں سالانہ اضافہ پہلی پنشن پر لاگو کیا جائے گا۔ آئندہ پنشن سروس کے آخری 24ماہ کی بنیاد پر مقرر کی جائے گی۔پے اینڈ پینش کمیشن ہر 3 سال بعد بنیادی پینش پر نظرثانی کرے گا۔ وزارت خزانے نے پے اینڈ پنش کمیشن 2020کی سفارشات فوری نافذ کردی ہیں۔یہ بھی بتایاگیا ہے کہ اہم عہدوں پر فائز افسران صرف ایک پیشن حاصل کرنے کے مجاز ہوں گے۔پنشن کی نئی شرائط عائد کرنے سے قومی خزانے کوسالانہ اربوں روپے کی بچت ہوگی۔یاد رہے کہ اس سے قبل پنجاب حکومت نے یکم جولائی 2024 سے ریٹائرڈ سرکاری ملازمین کی پنشن نئے ترامیمی ایکٹ کے تحت دینے کا نوٹیفکیشن جاری کیا تھا۔بتایاگیا تھا کہ پنجاب سول سرونٹس ایکٹ 1974 میں اصلاحات کے ساتھ ترامیم کر دی گئی ہیں۔ اس کے بعد سرکاری ملازمین کو مستقبل میں نئے ایکٹ کے تحت پنشن اور چھٹیوں کا متبادل (لیو انکیشمنٹ) دیا جائے گا۔نوٹیفکیشن کے مسودے کے مطابق صوبائی اور وفاقی حکومت کے ملازمین ریٹائرمنٹ سے قبل 24 ماہ کی سروس کے دوران حاصل کردہ اوسط پینشن کے 70 فیصد کی بنیاد پر مجموعی پینشن کے حقدار ہوں گے۔رضاکارانہ طورپر ریٹائرمنٹ کیلئے سرکاری ملازم 25 سال کی ملازمت کے بعد ریٹائرمنٹ کی درخواست دے سکے گا۔ تاہم ملازم ریٹائرمنٹ کی تاریخ سے پینشن ملنے کی تاریخ تک مکمل مہینوں کی تعداد کی بنیاد پر مجموعی پینشن میں سالانہ تین فیصد کی کمی کی شرح کا ذمہ دار ہوگا۔ مجموعی پینشن میں اس طرح کی کمی کو 20 فیصد تک محدود کیا جائے گا۔
ٖ