سرکاری نرخنامے پر عملدرآمد ایک بار پھر سوالیہ نشان بن گیا، شہریوں کو روزمرہ استعمال کی اشیائے خورونوش مقررہ سرکاری نرخوں کے بجائے من مانے داموں خریدنے پر مجبور ہونا پڑ رہا ہے۔
مارکیٹ میں دودھ سرکاری نرخ 170 روپے فی لیٹر مقرر ہونے کے باوجود 220 روپے فی لیٹر تک فروخت کیا جا رہا ہے، جس کے باعث شہریوں پر اضافی مالی بوجھ پڑ رہا ہے۔اسی طرح بیف کی سرکاری قیمت 800 روپے فی کلو مقرر ہے، تاہم مارکیٹ میں گوشت 1500 روپے فی کلو تک فروخت ہونے کی اطلاعات ہیں۔ مٹن بھی سرکاری نرخ 1600 روپے کے بجائے 3 ہزار روپے فی کلو تک فروخت کیا جا رہا ہے۔سادہ روٹی کی قیمت بھی سرکاری نرخنامے کے مطابق 14 روپے مقرر ہونے کے باوجود تندوروں پر 20 روپے میں فروخت کی جا رہی ہے۔
دوسری جانب پھل اور سبزیاں بھی سرکاری نرخنامے کے مطابق فروخت نہ ہونے کی شکایات سامنے آئی ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ سرکاری نرخنامے جاری ہونے کے باوجود بازاروں میں ان پر مؤثر عملدرآمد نظر نہیں آتا۔شہریوں نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ سرکاری نرخنامے کی خلاف ورزی کرنے والے دکانداروں کے خلاف کارروائی کی جائے اور مقررہ نرخوں پر اشیائے خورونوش کی فراہمی یقینی بنائی جائے تاکہ مہنگائی کے اضافی بوجھ سے عوام کو ریلیف مل سکے۔