نیویارک: ترک صدر رجب طیب اردوان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اسلاموفوبیا، فلسطین اور کشمیر سمیت متعدد عالمی و علاقائی مسائل پر ترکیہ کے مؤقف کا اظہار کیا اور اقوام متحدہ کے موجودہ نظام میں اصلاحات کی ضرورت پر زور دیا۔
اردوان نے اپنے خطاب میں اسلام کے خلاف دشمنی اور اسلاموفوبیا پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دنیا کے مختلف حصوں میں اسلاموفوبیا ایک وبا کی طرح پھیل رہا ہے۔ ان کے مطابق مذہبی تعصب اور نفرت کے رجحانات کے خاتمے کے لیے عالمی سطح پر مؤثر اقدامات کی ضرورت ہے۔ترک صدر نے اقوام متحدہ کے کردار پر بھی سوالات اٹھائے۔ ان کا کہنا تھا کہ عالمی امن اور سلامتی کے قیام کے لیے تشکیل دیے گئے عالمی ادارے کی مؤثریت وقت گزرنے کے ساتھ کم ہوتی جا رہی ہے، اس لیے موجودہ عالمی نظام اور اقوام متحدہ کے ڈھانچے میں اصلاحات کی ضرورت ہے۔فلسطین کا معاملہ بھی اردوان کی تقریر کا اہم حصہ رہا۔ انہوں نے فلسطینی صدر محمود عباس کی مسلسل دوسرے سال جنرل اسمبلی کے اجلاس میں عدم موجودگی کا ذکر کرتے ہوئے اسے فلسطینی عوام کے ساتھ ناانصافی قرار دیا اور کہا کہ ایسی صورتحال عالمی ضمیر کے لیے باعث تشویش ہے۔
ترک صدر نے کہا کہ اگرچہ محمود عباس ذاتی طور پر جنرل اسمبلی کے اجلاس میں موجود نہیں، تاہم ترکیہ اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم پر آزاد اور خودمختار فلسطین کی حمایت میں اپنی آواز بلند کرتا رہے گا۔اردوان نے ان ممالک سے بھی فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے پر غور کرنے کا مطالبہ کیا جو اب تک فلسطین کو باضابطہ طور پر تسلیم نہیں کرتے۔ انہوں نے غزہ کی صورتحال پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے عالمی برادری پر زور دیا کہ فلسطینیوں کے تحفظ اور خطے میں جاری بحران کے خاتمے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔ترک صدر نے اپنے خطاب میں مسئلہ کشمیر کا بھی ذکر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جنوبی ایشیا کے تمام تنازعات، جن میں مسئلہ کشمیر بھی شامل ہے، اقوام متحدہ کے چارٹر اور متعلقہ قراردادوں کے دائرے میں مذاکرات اور بات چیت کے ذریعے حل کیے جانے چاہئیں۔
اردوان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے موجودہ ڈھانچے میں اصلاحات کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ ان کے خطاب میں عالمی ادارے کو زیادہ مؤثر بنانے اور بین الاقوامی مسائل کے حل میں اس کے کردار کو مضبوط کرنے سے متعلق ترکیہ کے مؤقف کو نمایاں کیا گیا۔ترک صدر کی تقریر میں فلسطین، غزہ، اسلاموفوبیا اور کشمیر جیسے علاقائی و عالمی معاملات کے ساتھ اقوام متحدہ کے کردار اور عالمی نظام میں اصلاحات کا معاملہ بھی نمایاں رہا۔