اسلام آباد ہائیکورٹ میں متنازع ٹویٹس کیس میں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزاؤں کی معطلی سے متعلق درخواستوں پر سماعت ہوئی، جس کی صدارت جسٹس اعظم خان نے کی۔
سماعت کے دوران عدالت اور وکیل فیصل صدیقی کے درمیان دلچسپ مکالمہ بھی ہوا۔ جسٹس اعظم خان نے فیصل صدیقی سے استفسار کیا کہ سپریم کورٹ نے اپنے حکم میں کیا لکھا ہے اور کیا اپیلیں سن لی گئی ہیں؟ اس پر فیصل صدیقی ایڈووکیٹ نے جواب دیا کہ سپریم کورٹ کے حکم میں ایسا کچھ نہیں لکھا گیا۔جسٹس اعظم خان نے ریمارکس دیے کہ ’’اب تو آپ کو ریلیف مل گیا ہے‘‘، جس پر وکیل سے سپریم کورٹ کے حالیہ آرڈر کے حوالے سے مزید وضاحت طلب کی گئی۔دوران سماعت پراسیکیوٹر بھی گفتگو میں شامل ہوگئے۔ فیصل صدیقی ایڈووکیٹ نے پراسیکیوٹر سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ’’آپ چھٹی پر تھے، یقینا آپ نے چھٹیاں انجوائے کی ہوں گی۔‘‘بعد ازاں فیصل صدیقی ایڈووکیٹ نے عدالت کے سامنے سپریم کورٹ کا آرڈر پڑھ کر سنایا۔ اس موقع پر پراسیکیوٹر نے کہا کہ ’’یہ تو اپیل زندہ ہوگئی۔‘‘ فیصل صدیقی نے جواب دیتے ہوئے کہا، ’’پہلے کیا اپیل مر گئی تھی؟‘‘
عدالت میں ہونے والے اس مکالمے کے بعد کیس کی کارروائی آگے بڑھائی گئی۔ جسٹس اعظم خان نے ریمارکس دیے کہ عدالت درخواست پر اپنا حکم جاری کرے گی۔
اسلام آباد ہائیکورٹ میں سماعت کے دوران فریقین کی جانب سے سپریم کورٹ کے حالیہ حکم اور اپیل کی قانونی حیثیت پر بھی گفتگو کی گئی۔ عدالت نے دلائل اور متعلقہ عدالتی حکم کا جائزہ لینے کے بعد سزا معطلی کی درخواستوں پر آرڈر جاری کرنے کا عندیہ دیا ہے۔