آج تک پرامن احتجاج کرتے نہیں دیکھا‘پی ٹی آئی میں فیصلہ ساز کون ہے ‘ بیرسٹر گوہر کی کوئی نہیں سنتا‘ یہ ہوش کے ناخن لیں ورنہ ان کے ساتھ وہ ہوگا جو ہمیشہ یاد رکھیں گے
خیبر پختونخوا غیور عوام کی دھرتی ہے،کوہاٹ واقعہ کے زخمیوں اور شہداء کے لواحقین سے ملاقات ہوئی، ان کے حوصلے بلند دیکھے‘ شہداء کے لواحقین پر توجہ دینے کی ضرورت ہے
اسلام آباد (آئی این پی)وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا تارڑ نے کہا ہے پی ٹی آئی میں فیصلہ ساز کون ہے، ہم بات کس سے کریں، کون انچارج ہے؟ بیرسٹر گوہر فارغ ہیں، پارٹی میں ان کی کوئی نہیں سنتا‘کچھ بھی ہوجائے پی ٹی آئی کو اسلام آباد آکر امن خراب کرنے کی اجازت نہیں دیں گے‘یہ ہوش کے ناخن لیں ورنہ ان کے ساتھ وہ ہوگا جو یہ ہمیشہ یاد رکھیں گے۔ ایک ٹی وی چینل کیساتھ گفتگو کے دوران عطا تارڑ نے کہا اسلحہ، ڈنڈے اور غلیلوں سے لیس آنا یہ پرامن کب تھے، پی ٹی آئی والوں کو آج تک پرامن احتجاج کرتے میں نے نہیں دیکھا۔انہوں نے کہا یہ احتجاج کی بات کرتے ہیں، ابھی کوہاٹ کے شہدا کی قبر کی مٹی نہیں سوکھی، پی ٹی آئی حکومت کو تو چاہیے کہ امن کے قیام تک یہ ہنگو اور کوہاٹ سے باہر نہ نکلے۔عطا تارڑ نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی کے اس احتجاج کا کیا جواز ہے، آج خیبر پختونخوا میں ٹوٹی سڑکوں کے سوا کچھ نہیں دیکھا، سیاست ہوتی رہے گی مگر خدارا اپنے صوبے کو سنبھالیں۔دریں اثناء پشاور پریس کلب میں پریس کانفرنس سے انہوں نے کہا خیبر پختونخوا غیور عوام کی دھرتی ہے،کوہاٹ واقعہ کے زخمیوں اور شہداء کے لواحقین سے ملاقات ہوئی، ان کے حوصلے بلند دیکھے، شہید پولیس کانسٹیبل فہیم اللہ کے والد نے اپنے بیٹے کی شہادت پر فخر کا اظہار کیا، فرائض کی ادائیگی کے دوران شہید ہونے والے میڈیا ورکرز اور صحافیوں کا ڈیٹا بیس تیار کیا جائے،چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر کے پاس نہ فیصلہ کرنے کا اختیار ہے، نہ اس پر عمل درآمد کرنے کا اختیار ہے، یہ نہیں معلوم کہ فیصلہ سازی کا اختیار کس کے پاس ہے۔ پشاور کے صحافیوں نے دہشت گردی کی جنگ میں بڑی قربانیاں دی ہیں۔وزیراطلاعات نے تجویز دی کہ فرائض کی ادائیگی کے دوران شہید ہونے والے میڈیا ورکرز اور صحافیوں کا ڈیٹا بیس تیار کیا جائے، شہید اور دوران سروس وفات پانے والے صحافیوں اور میڈیا ورکرز کے لئے لائحہ عمل مرتب کیا جائے گا، ہیلتھ انشورنس کا بھی پشاور کے صحافیوں کے لئے اجراء ضروری ہے۔وزیر اطلاعات نے کہا شہداء کے لواحقین پر توجہ دینے کی ضرورت ہے،پشاور کلب کی قومی بیانیہ کے حوالے سے متوازن پالیسی ہے، 9 مئی کو ریڈیو پاکستان پشاور کی نذر آتش کی جانے والی عمارت وزیراعظم کی ہدایت پر مکمل طور پر فعال کر دی گئی ہے