پشاور ہائی کورٹ نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کے خلاف وفاقی مقدمات کی تفصیلات طلب کرتے ہوئے ان کی حفاظتی ضمانت میں تین ہفتوں کی توسیع کر دی۔
جسٹس صاحبزادہ اسد اللہ اور جسٹس محمد اعجاز خان پر مشتمل ڈویژن بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ عدالت نے حکم دیا کہ علی امین گنڈاپور کو درج مقدمات میں گرفتار نہ کیا جائے اور فریقین اپنی رپورٹس جمع کرائیں۔دوران سماعت اسسٹنٹ اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ وزیراعلیٰ کے خلاف وفاق کے 48 مقدمات اور ایف آئی اے کی دو انکوائریاں زیرِ التوا ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ چونکہ وہ وزیراعلیٰ ہیں، اس لیے بار بار عدالت آنا مناسب نہیں۔
اس پر جسٹس صاحبزادہ اسد اللہ نے ریمارکس دیے کہ "کاش یہ بات آپ خلوصِ دل سے کرتے۔"ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ اینٹی کرپشن کی رپورٹ تاحال موصول نہیں ہوئی۔ عدالت نے وزیراعلیٰ کو ذاتی طور پر پیشی سے استثنا دیتے ہوئے ہدایت کی کہ ان کے وکیل پیش ہوں۔بعد ازاں عدالت نے سماعت 16 اکتوبر تک ملتوی کر دی۔