پشاور: وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کا خطاب

پشاور: وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کا خطاب

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے یونیورسٹی آف پشاور میں انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ سائنسز کے افتتاح کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے نیب اور کرپشن پر اہم تبصرے کیے۔

 انہوں نے کہا کہ نیب والے ہر سال کرپشن کی بات کرتے ہیں، تو پھر سوال یہ ہے کہ وہ کس چیز کی تنخواہ لے رہے ہیں؟۔ ان کے مطابق نیب کے افسران کو کرپشن کی بات کرتے وقت اپنی ذمہ داریوں کا بھی جائزہ لینا چاہیے۔

صوبے کی ترقی اور اختیارات کی منتقلی: علی امین گنڈاپور نے اپنے خطاب میں کہا کہ صوبہ خیبر پختونخوا کی ترقی میں رکاوٹ اختیارات کی کمی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ دنیا بھر میں ترقی کے لیے اختیارات کی منتقلی ضروری ہے، لیکن بدقسمتی سے یہاں ہر کوئی صرف حکمرانی چاہتا ہے۔ وزیراعلیٰ نے مزید کہا کہ ملک میں صرف چار صوبے ہیں اور نئے صوبوں کا قیام نہیں ہو رہا کیونکہ لوگ صرف اقتدار میں آنا چاہتے ہیں۔

صوبائی اداروں کا خودمختاری: وزیراعلیٰ نے اپنے خطاب میں کہا کہ ان کا وژن کشکول کو توڑنا ہے تاکہ صوبے کے ادارے خودمختار ہوں اور اپنے قدموں پر کھڑے ہوں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ہر محکمے کو قرض اتارنے کے لیے 30 ارب روپے کا انڈومنٹ فنڈ قائم کیا گیا ہے تاکہ محکمے مالی طور پر مستحکم ہو سکیں۔

صحت کے شعبے میں اقدامات: علی امین گنڈاپور نے کہا کہ اسپتال کی عمارت کی اہمیت نہیں ہے، بلکہ اس کے کام کی اہمیت ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ اگلے سال میں ایک نرسنگ کالج اور میڈیکل کالج شروع کیا جائے گا۔ اس کے لیے 50 کروڑ روپے فراہم کیے جائیں گے، لیکن اس کے لیے کام کا آغاز اگلے سال سے پہلے کرنا ہوگا۔

قانون سازی اور اداروں کا خوف: وزیراعلیٰ نے نیب کی کارروائیوں اور اس کے افسران کے بارے میں سخت الفاظ استعمال کیے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر نیب کرپشن کی بات کرتا ہے تو نیب والے خود کس بنیاد پر تنخواہیں لے رہے ہیں؟۔ انہوں نے مزید کہا کہ صوبے میں اداروں کو خوف سے آزاد کرنے کے لیے نئی قانون سازی کی جارہی ہے تاکہ وہ اپنے کام میں آزاد ہو کر کام کر سکیں۔

تعلیمی شعبے میں بہتری: علی امین گنڈاپور نے تعلیم کے شعبے میں بھی اہم باتیں کیں اور کہا کہ بچوں اور بچیوں کو مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق تربیت دینی چاہیے تاکہ وہ باہر جا کر ملک کی ترقی کا سبب بن سکیں۔ انہوں نے یونیورسٹی کے فیکلٹی ممبران کی پروموشن کا مسئلہ بھی حل کرنے کا وعدہ کیا۔

نتیجہ: علی امین گنڈاپور کا خطاب خیبر پختونخوا کے اداروں کی بہتری، کرپشن کے خاتمے اور تعلیمی ترقی کے حوالے سے تھا، اور انہوں نے نئے اقدامات کے ذریعے صوبے کو آگے بڑھانے کا عزم ظاہر کیا۔