خیبرپختونخوا کمیشن برائے حیثیتِ نسواں نے خیبر امن جرگہ میں خواتین کی نمائندگی کو لازمی قرار دیا ہے۔
اس حوالے سے کمیشن کا کہنا ہے کہ امن جرگہ میں خواتین کی شمولیت آئینی، قانونی اور پالیسی تقاضا ہے، کیونکہ خواتین کی شرکت آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 25(2) اور قانون 2016ء کی شق 6(b) کے تحت ضروری ہے۔خیبر امن جرگہ 25 اکتوبر کو ضلع خیبر باڑہ میں منعقد ہوگا، جس کی صدارت وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کریں گے۔ کمیشن نے اپنے موقف میں یہ بھی کہا کہ پاکستان اقوامِ متحدہ کی قرارداد 1325 پر عمل درآمد کا پابند ہے، جس میں خواتین کی آواز کو امن اور پالیسی کے مکالموں میں شامل کرنے پر زور دیا گیا ہے۔
کمیشن نے مزید کہا ہے کہ چیف سیکریٹری، ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ ادارے تعاون یقینی بنائیں، اور سول سوسائٹی کی خواتین کو اس جرگہ میں نمائندگی دی جائے۔ واضح رہے کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے امن و امان کے مسائل کے حل کے لیے عوام سے رابطہ کرنے کا اعلان کیا ہے، جس کے بعد یہ امن جرگہ بلایا جا رہا ہے۔