دوبارہ احتجاج کی طرف جانا ہوگا جنید اکبر اس مرتبہ سخت جواب دیا جائیگا رانا ثناء اللہ

ہر اس شخص سے بات چیت کیلئے   تیار ہیں جو بااختیار ہے، مگر وزیراعظم خود اتنے بااختیار نہیں  کسی ملاقات پر فیصلہ کرسکیں ، مذاکرات کا ماحول بنانا ہماری ذمہ داری ہے لیکن با اختیار لوگوں کی ذمہ داری زیادہ ہے :رہنما پی ٹی آئی
پی ٹی آئی کو اس مرتبہ ڈی چوک تو دور اسلام آباد کی حدود میں بھی نہیں آنے دیا جائیگا،  اس مرتبہ اٹک پل کو بھی کراس نہیں کرسکے گی، پچھلی بار جو خامیاں رہ گئی تھیں اس مرتبہ وہ بھی پوری کرلی جائیں گی:رانا ثناء
 بانی پی ٹی آئی تو انتظار کررہے ہیں  ملک میں انارکی اور افراتفری ہو،کہاں لکھا ہے  سہیل آفریدی کی بانی سے ملاقات کرائی جائے‘سہیل آفریدی کی گفتگو سے لگتا تو نہیں خیبرپختونخوا میں استحکام لائیں گے :مشیر سیاسی امور
 اسلام آباد(آئی این پی ) پی ٹی آئی رہنما جنید اکبر نے کہا  ہے ہمیں دیوار سے لگادیا گیا ہے ، دوبارہ احتجاج کی طرف جانا ہوگا ، ہمیں سیاست سے ہی روکا جا رہا ہے تو ہمارے پاس احتجاج کے علاوہ کیا آپشن ہے، ہمیں ملک بھر میں کہیں بھی سیاسی اسپیس نہیں دی جاتی۔ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا  کہ ہمارے پاس سارے آپشن ختم ہو رہے ہیں ، ہمیں دیوارسے لگا دیا گیا ہے، ہمیں دوبارہ احتجاج کی طرف جانا ہے، طریقہ کار اور لائحہ کا اعلان جلد ہوگا۔انہوں نے کہا کہ ہم ہر اس شخص سے بات چیت کے لئے  تیار ہیں جو بااختیار ہے، مگر وزیراعظم خود اتنے بااختیار نہیں کہ کسی ملاقات پر فیصلہ کرسکیں۔جنید اکبر کا کہنا تھا کہ حکومت نے مذاکرات کیلئے کمیٹی تشکیل دی تھی جو بے اختیارنکلی، ہم نے تو بے اختیارکمیٹی کیساتھ بھی مذاکرات کئے  تھے، ہماری خواہش ہے عوام اور اداروں کے درمیان خلیج کو ختم کیا جائے، ہم بھی پاکستانی شہری ہیں کسی غیرملک کیساتھ مذاکرات کا مطالبہ نہیں کرتے ، مذاکرات کا ماحول بنانا ہماری ذمہ داری ہے لیکن با اختیار لوگوں کی ذمہ داری زیادہ ہے۔

اسلام آباد(آئی این پی ) مشیروزیراعظم برائے سیاسی امور سینیٹررانا ثنااللہ نے کہا ہے  پی ٹی آئی اسلام آباد نہیں آسکتی کوشش کرکے دیکھ لے، اسلام آباد آنے کی کوشش پر پی ٹی آئی کو اس مرتبہ سخت جواب دیا جائیگا۔ایک انٹرویو میں  انہوں نے کہا  پی ٹی آئی کو اس مرتبہ ڈی چوک تو دور اسلام آباد کی حدود میں بھی نہیں آنے دیا جائیگا، پی ٹی آئی اس مرتبہ اٹک پل کو بھی کراس نہیں کرسکے گی، پچھلی بار جو خامیاں رہ گئی تھیں اس مرتبہ وہ بھی پوری کرلی جائیں گی۔رانا ثنااللہ نے کہا کہ پی ٹی آئی احتجاج کیلئے اسلام آباد آتی ہے تو طاقت کا استعمال کرتے ہوئے روکا جائیگا، کچھ پوائنٹس ہیں جنھیں بند کیا جائے تو پی ٹی آئی کا اسلام آباد آنا ممکن نہیں ہے، آنسو گیس کی شیلنگ اور راستوں کی بندش کی جائے تو پی ٹی آئی نہیں آسکے گی۔انھوں نے کہا کہ کے پی میں پی ٹی آئی کی حکومت ہے وہاں سے آجائیں گے لیکن پنجاب میں روکا جائیگا، بانی پی ٹی آئی تو انتظار کررہے ہیں کہ ملک میں انارکی اور افراتفری ہو۔رانا ثنا اللہ  نے کہا کہ وزیراعظم نے پی ٹی آئی کو اسمبلی میں پیشکش کی لیکن جواب نہیں دیا گیا، پی ٹی آئی سنجیدہ ہے تو وزیراعظم کے پاس آئے اور کہے کہ پہلے ملاقات کرادیں، وزیراعظم نے عسکری قیادت کی موجودگی میں میثاق استحکام پاکستان کی پیشکش کی۔انھوں نے کہا کہ وزیراعظم کی میثاق استحکام پاکستان کی پیشکش پر پی ٹی آئی نے کوئی جواب نہیں دیا، بات چیت کا ایک طریقہ ہوتا ہے پی ٹی آئی مذاکرات کیلئے سنجیدہ ہی نہیں ہے۔مشیروزیراعظم  نے کہا کہ تجربے اور جوش وجذبے کو ملاکر ہی سارے کام کیے جاتے ہیں، پی ٹی آئی یہاں سے ہی بات شروع کرلے کہ پہلے بانی سے ملاقات کرادیں، وزیراعظم کے سامنے بیٹھ کر کہیں کہ پہلے ملاقات کرادیں باقی باتیں بعدمیں ہونگی۔ سہیل آفریدی کی گفتگو سے لگتا تو نہیں  کے پی میں استحکام لائیں گے۔انھوں نے کہا کہ سہیل آفریدی کے پی میں استحکام لاتے ہیں تو وفاقی حکومت تعاون کریگی، سہیل آفریدی کی پہلی تقریر سنی ہے ان سے بھلائی کی امید نہیں ہے۔