اسلام آباد ہائی کورٹ کے احکامات پر عمل کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بیرسٹر گوہر کو ٹیلی فون کرکے اسلام آباد میں کسی بھی قسم کے احتجاج، دھرنے یا ریلی سے باز رہنے کی سخت وارننگ دی۔
اہم نکات:
اسلام آباد ہائی کورٹ کا حکم:
وزیر داخلہ نے بیرسٹر گوہر کو آگاہ کیا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے دارالحکومت میں کسی بھی احتجاج یا نام نہاد دھرنے کی اجازت نہ دینے کا واضح حکم دیا ہے، اور حکومت اس فیصلے پر سختی سے عملدرآمد کی پابند ہے۔
بیلاروس کے صدر کا دورہ:
وزیر داخلہ نے بیرسٹر گوہر کو بتایا کہ بیلا روس کے صدر اپنے 80 رکنی اعلیٰ سطحی وفد کے ساتھ 24 نومبر سے 27 نومبر تک اسلام آباد کا دورہ کریں گے۔ اس دوران شہر میں متعدد اہم سرکاری اور سفارتی مصروفیات شیڈول کی گئی ہیں۔
پاکستان کی ساکھ کا معاملہ:
محسن نقوی نے نشاندہی کی کہ کسی بھی قسم کی بدمزگی، جلوس یا احتجاج کی صورت میں یہ بین الاقوامی سطح پر پاکستان کے لیے شرمندگی کا باعث بن سکتا ہے، اور یہ صورت حال ریاستی ساکھ پر منفی اثر ڈالے گی۔
قانونی اور اخلاقی ذمہ داری پوری:
وزیر داخلہ نے کہا کہ وہ عدالت کے احکامات کے مطابق اپنی قانونی اور اخلاقی ذمہ داری پوری کر رہے ہیں۔ انہوں نے بیرسٹر گوہر کو حکومت کے واضح مؤقف سے آگاہ کرتے ہوئے خبردار کیا کہ عدالت کے فیصلے کی خلاف ورزی کی صورت میں سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔
بیرسٹر گوہر کا جواب:
بیرسٹر گوہر نے وزیر داخلہ کی وارننگ کے جواب میں کہا کہ وہ پارٹی قیادت اور دیگر رہنماؤں سے مشاورت کریں گے اور اس کے بعد حکومت کو اپنے حتمی مؤقف سے آگاہ کریں گے۔
پس منظر:
بیلا روس کے صدر کے وفد کا یہ دورہ اہم سفارتی سرگرمی ہے، جس میں کئی ملاقاتیں اور معاہدے متوقع ہیں۔ اس تناظر میں حکومت نے کسی بھی قسم کی سیاسی سرگرمی کو روکنے کے لیے سخت اقدامات کا فیصلہ کیا ہے تاکہ دارالحکومت میں امن و امان اور مثبت تاثر برقرار رکھا جا سکے۔یہ اقدامات نہ صرف عدالت کے احکامات کی پاسداری کے لیے کیے جا رہے ہیں بلکہ بین الاقوامی سفارتی سطح پر پاکستان کی اہمیت اور وقار کو بھی مدنظر رکھا جا رہا ہے۔