بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ کرانے پر جیل حکام اور آر پی او راولپنڈی کی معافی قبول، آخری وارننگ دی

بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ کرانے پر جیل حکام اور آر پی او راولپنڈی کی معافی قبول، آخری وارننگ دی

ویب ڈیسک:اسلام آباد ہائی کورٹ نے بانی پی ٹی آئی سے جیل میں ملاقات نہ کرانے پر جیل حکام اور آر پی او راولپنڈی کی معافی قبول کرتے ہوئے توہین عدالت کی درخواست کو نمٹا دیا ہے۔

 اس موقع پر عدالت نے دونوں حکام کو آخری وارننگ دی کہ آئندہ عدالتی احکامات کی خلاف ورزی نہیں ہونی چاہیے۔سماعت کے دوران عدالت کے جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے کہا کہ ملک کا نظام عدلیہ اور پارلیمنٹ کے ہاتھ سے نکل چکا ہے۔ اس پر شعیب شاہین ایڈووکیٹ نے کہا کہ ان کے موکل کو جیل کے دروازے پر گھنٹوں بیٹھا کر ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی۔ عدالت نے اس پر شدید تحفظات کا اظہار کیا اور جیل حکام کو ان کے عمل پر وضاحت دینے کی ہدایت کی۔

ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب خلیق الزمان نے کہا کہ پولیس کو عدالتی حکم کے بارے میں آگاہ نہیں کیا گیا تھا، تاہم عدالت نے کہا کہ یہ تسلیم کرنا کہ عدالتی حکم کے بارے میں نہیں معلوم تھا، ناقابلِ قبول ہے کیونکہ یہ بات پورے ملک میں مشہور تھی کہ عدالت نے بانی پی ٹی آئی کی جیل میں ملاقات کی اجازت دی تھی۔عدالت نے مزید کہا کہ جیل سپرنٹنڈنٹ نے دو دن پہلے ملاقات کے لیے پیغام بھیجا تھا، تاہم ملاقات کے لیے درخواست دہندگان نہیں آئے۔ اس پر عدالت نے کہا کہ آئندہ عدالتی احکامات پر مکمل عملدرآمد کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ، عدالت نے یہ بھی کہا کہ اگر دوبارہ عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کی گئی تو کارروائی کی جائے گی۔مجموعی طور پر عدالت نے اس بات پر زور دیا کہ قانون کی حکمرانی قائم رکھی جائے اور تمام حکام عدالتی احکامات کی پابندی کریں۔