ویب ڈیسک:بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور سابق وزیراعظم عمران خان کی ضمانتوں کی جلد سماعت کے حوالے سے درخواست کی سماعت اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت میں ہوئی۔
عدالت میں بانی پی ٹی آئی کے وکیل نے ضمانتوں کی جلد سماعت کے لیے درخواست دائر کی، جس میں استدعا کی گئی کہ 9 مئی کے واقعات کے حوالے سے ان کے موکل کی ضمانتوں پر جلد سماعت کی جائے۔دوسری جانب، پراسیکیوٹر رانا اظہر نے اس درخواست کی مخالفت کی، اور عدالت کو بتایا کہ فوجداری مقدمات میں جلد سماعت کی درخواست دائر نہیں کی جا سکتی۔ پراسیکیوٹر نے یہ بھی کہا کہ بانی پی ٹی آئی کے وکیل کئی بار دلائل دینے کے لیے پیش نہیں ہوئے، اور اس وقت تک 30 نومبر کی تاریخ پر سماعت مقرر ہو چکی ہے۔
عدالت نے اس موقع پر ریمارکس دیے کہ بانی پی ٹی آئی کے وکیل کے پیش نہ ہونے پر 30 نومبر کی تاریخ مقرر کی گئی تھی۔ پراسیکیوشن نے مزید کہا کہ بانی پی ٹی آئی کے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر نے کئی مرتبہ دلائل کے لیے مہلت کی درخواست کی تھی۔اس کے بعد ایڈمن جج منظر علی گل نے دلائل مکمل ہونے کے بعد بانی پی ٹی آئی کی ضمانتوں کی جلد سماعت کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔ اب عدالت کی طرف سے جلد سماعت کی درخواست پر فیصلہ متوقع ہے۔