بانی پی ٹی آئی کی بہنوں کی بازیابی کی درخواست پر سماعت، فیصلہ محفوظ

بانی پی ٹی آئی کی بہنوں کی بازیابی کی درخواست پر سماعت، فیصلہ محفوظ

لاہور ہائیکورٹ نے علیمہ خان، نورین نیازی اور عظمیٰ خان کی بازیابی سے متعلق درخواست پر سیکرٹری داخلہ پنجاب اور سپرنٹنڈنٹ سینٹرل جیل کوٹ لکھپت کو 28 اکتوبر کو جواب سمیت طلب کر لیا۔

 عدالت نے فوری رپورٹ طلب کرنے کی استدعا پر فیصلہ محفوظ کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت بھی 28 اکتوبر تک ملتوی کر دی۔کیس کی سماعت جسٹس عبہر گل خان نے شہری شہریز خان کی درخواست پر کی۔ درخواست گزار کی جانب سے وکلا رانا مدثر، سلیمان اکرم راجہ اور دیگر عدالت میں پیش ہوئے۔دورانِ سماعت درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ تینوں خواتین کی نظر بندی کے احکامات ختم ہوئے تین روز گزر چکے ہیں، لیکن متعلقہ حکام نظر بندی میں توسیع سے متعلق معلومات فراہم نہیں کر رہے۔ وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ معاملے پر فوری رپورٹ طلب کی جائے تاکہ خواتین کی موجودہ قانونی حیثیت واضح ہو سکے۔

ڈپٹی کمشنر لاہور کو فریق بنانے کی ہدایت
سماعت کے دوران جسٹس عبہر گل خان نے استفسار کیا کہ درخواست میں ڈپٹی کمشنر لاہور کو فریق کیوں نہیں بنایا گیا۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ ڈپٹی کمشنر کو فریق بنائے بغیر انہیں طلب کرنا یا ان سے رپورٹ طلب کرنا ممکن نہیں ہے۔عدالت نے درخواست گزار کے وکیل کو ہدایت کی کہ وہ متفرق درخواست دائر کرکے ڈپٹی کمشنر لاہور کو بھی مقدمے میں فریق بنائیں، تاکہ متعلقہ حکام سے ضروری معلومات حاصل کی جا سکیں اور معاملے کو آگے بڑھایا جا سکے۔

عظمیٰ خان کے شوہر کی رہائی کی استدعا
دورانِ سماعت عظمیٰ خان کے شوہر احد خان نے مؤقف اختیار کیا کہ تینوں خواتین کی عمریں 70 سال سے زائد ہیں اور ان کی رہائی کا حکم دیا جائے۔سماعت کے دوران روسٹرم پر ایک سے زائد افراد کے بیک وقت بولنے پر عدالت نے ناپسندیدگی کا اظہار کیا اور وکیل کو اپنے موکل کو مطمئن کرنے کی ہدایت کی۔

28 اکتوبر کو جواب طلب
لاہور ہائیکورٹ نے سیکرٹری داخلہ پنجاب اور سپرنٹنڈنٹ سینٹرل جیل کوٹ لکھپت کو 28 اکتوبر کو جواب سمیت پیش ہونے کا حکم دیا۔ عدالت نے فوری رپورٹ طلب کرنے کی استدعا پر فیصلہ محفوظ کرتے ہوئے مزید سماعت بھی اسی تاریخ تک ملتوی کر دی۔