عمران خان کی 9 مئی کے مقدمات میں ضمانتوں پر فیصلہ محفوظ

عمران خان کی 9 مئی کے مقدمات میں ضمانتوں پر فیصلہ محفوظ

ویب ڈیسک:پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی 9 مئی کو ہونے والے واقعات سے متعلق 4 مقدمات میں ضمانتوں کے حوالے سے اہم پیشرفت ہوئی ہے۔ اس کیس کی سماعت انسداد دہشتگردی کی عدالت میں ہوئی، جس میں پراسیکیوٹر جنرل پنجاب، سید فرہاد علی شاہ نے دلائل مکمل کیے۔

فرہاد علی شاہ نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ عمران خان نے گرفتاری کے بعد اپنے بیانیہ کے ذریعے حساس تنصیبات پر حملوں کی ہدایات دی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے قائد نے ان حملوں کے لیے اپنے پیروکاروں کو اکسایا تھا، اور اس کے نتیجے میں ملک میں سنگین نوعیت کی صورتحال پیدا ہوئی۔ فرہاد علی شاہ نے درخواست کی کہ بانی پی ٹی آئی کی ضمانتیں خارج کی جائیں کیونکہ وہ دہشتگردی کے مقدمات میں ملوث ہیں۔بانی پی ٹی آئی کے وکیل نے پراسیکیوشن کے دلائل پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ پراسیکیوشن نے حقائق کے برعکس دلائل دیے ہیں، اور انہوں نے عدالت سے درخواست کی کہ وہ مزید وقت دے کر نئے دلائل پیش کرنے کا موقع دیں۔ وکیل نے کہا کہ ان کے سینئر وکیل بیرسٹر سلمان صفدر پیر کے روز دلائل دینے کے لیے عدالت آئیں گے، اور ایک نیا نقطہ سامنے آیا ہے جس پر مزید بحث کی ضرورت ہے۔

عدالت نے اس درخواست پر استفسار کیا کہ سینئر وکیل پہلے ہی دلائل دے چکے ہیں، اور اب پراسیکیوشن کی جانب سے مکمل دلائل دئیے جا چکے ہیں۔ عدالت نے واضح کیا کہ بار بار دلائل دینے سے وقت کا ضیاع ہو گا، اور اب اس کیس پر فیصلہ کیا جانا چاہیے۔ اس کے بعد عدالت نے مزید دلائل دینے کی درخواست مسترد کر دی اور بانی پی ٹی آئی کی ضمانتوں پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔یہ کیس سیاسی طور پر اہم ہے کیونکہ 9 مئی کے واقعات میں پی ٹی آئی کارکنوں نے ملک بھر میں احتجاج کیا تھا اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا تھا۔ عدالت کا فیصلہ اس بات پر اثرانداز ہو سکتا ہے کہ عمران خان کی قانونی حیثیت کیا ہوگی اور آیا انہیں ان مقدمات میں مزید ریلیف ملے گا یا نہیں۔