ایس آئی ایف سی کے اقدامات سے ادویات کی برآمدات میں 31 فیصد اضافہ

ایس آئی ایف سی کے اقدامات سے ادویات کی برآمدات میں 31 فیصد اضافہ

پاکستان میں خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (SIFC) کے اقدامات کے نتیجے میں فارماسیوٹیکل سیکٹر میں نمایاں پیشرفت ہوئی ہے، جس کا اثر ادویات کی برآمدات پر بھی واضح نظر آ رہا ہے۔

 ادارہ شماریات پاکستان کے جاری کردہ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، مالی سال 2024-25 کے پہلے تین ماہ میں ادویات کی برآمدات میں 31 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

اہم اعداد و شمار:
رواں مالی سال کی برآمدات:
105.936 ملین ڈالر
گزشتہ مالی سال کی اسی مدت کی برآمدات:
80.796 ملین ڈالر
سال بہ سال اضافہ:
61.55 فیصد
ماہ بہ ماہ اضافہ:
ستمبر 2024 میں اگست 2024 کے مقابلے میں 53.78 فیصد
SIFC کا کردار:
ایس آئی ایف سی نے مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کے فروغ اور صنعتوں کی ترقی کے لیے جامع حکمت عملی اپنائی ہے۔ خاص طور پر فارماسیوٹیکل سیکٹر میں، کونسل نے نئی پالیسیز اور برآمدات کو بڑھانے کے لیے مالیاتی مراعات فراہم کی ہیں، جن کی بدولت پاکستانی ادویات بین الاقوامی مارکیٹس میں اپنی جگہ بنا رہی ہیں۔

ماہانہ اور سالانہ اضافے کے عوامل:
عالمی منڈی میں مواقع کا فائدہ اٹھانا:
پاکستانی ادویات کی بین الاقوامی مانگ میں اضافہ ہوا ہے، خاص طور پر ترقی پذیر ممالک میں۔
حکومتی تعاون:
حکومت نے فارما سیکٹر کو برآمدات میں اضافے کے لیے سہولیات فراہم کی ہیں، جیسے ٹیکس کی چھوٹ اور ریگولیٹری اصلاحات۔
معیار کی بہتری:
ادویات کے معیار میں بہتری اور عالمی معیارات کے مطابق پیداوار سے مارکیٹ میں اعتماد بڑھا ہے۔
مستقبل کے امکانات:
ایس آئی ایف سی کے اقدامات اور حکومت کی برآمداتی حکمت عملیوں کی روشنی میں، فارماسیوٹیکل سیکٹر کی برآمدات میں مزید اضافے کی توقع ہے۔ اس کے علاوہ، فارماسیوٹیکل انڈسٹری کے لیے نئی سرمایہ کاری کے امکانات اور ٹیکنالوجی کے استعمال سے عالمی منڈی میں مسابقتی برتری حاصل کی جا سکتی ہے۔

خلاصہ:
ادویات کی برآمدات میں یہ غیر معمولی اضافہ نہ صرف پاکستانی معیشت کے لیے مثبت پیش رفت ہے بلکہ فارما سیکٹر کی بین الاقوامی سطح پر مضبوط موجودگی کی عکاسی بھی کرتا ہے۔