ایس آئی ایف سی کی حکمتِ عملی اور اسٹیٹ بینک کی سہولتوں سے آئی ٹی برآمدات میں نمایاں اضافہ

ایس آئی ایف سی کی حکمتِ عملی اور اسٹیٹ بینک کی سہولتوں سے آئی ٹی برآمدات میں نمایاں اضافہ

ویب ڈیسک: اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (ایس آئی ایف سی) کی مؤثر حکمت عملی اور عالمی مارکیٹ تک بہتر رسائی کے باعث پاکستان کی آئی ٹی برآمدات 354 ملین ڈالر تک پہنچ گئیں۔

 یہ گزشتہ 12 ماہ کی 317 ملین ڈالر کی اوسط سے نمایاں اضافہ ہے۔اعداد و شمار کے مطابق آئی ٹی برآمدات میں جولائی 2024 کے مقابلے میں 24 فیصد جبکہ جون 2025 کے مقابلے میں 5 فیصد بہتری ریکارڈ کی گئی۔ اس اضافے میں کمپیوٹر سروسز، سافٹ ویئر کنسلٹنسی اور خلیجی ممالک میں بڑھتی ہوئی طلب نے اہم کردار ادا کیا۔اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے ایکسپورٹرز کے اسپیشلائزڈ فارن کرنسی اکاؤنٹس کی حد 35 فیصد سے بڑھا کر 50 فیصد کر دی ہے، جبکہ ایکوئٹی انویسٹمنٹ ابراڈ (EIA) اسکیم کے تحت برآمدکنندگان کو اپنی وصولیوں کا نصف حصہ بیرون ملک سرمایہ کاری کے لیے استعمال کرنے کی اجازت دی گئی۔ ان اقدامات نے برآمدکنندگان کے اعتماد میں اضافہ کیا ہے۔

پاکستان سافٹ ویئر ہاؤسز ایسوسی ایشن (پاشا) کے مطابق ملک کی 62 فیصد آئی ٹی کمپنیاں اسپیشلائزڈ فارن کرنسی اکاؤنٹس رکھتی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایس آئی ایف سی اور اسٹیٹ بینک کی سہولتیں پاکستان کی آئی ٹی انڈسٹری کی مسلسل ترقی اور معیشت کے روشن مستقبل کی ضمانت ہیں۔