امریکی محکمہ دفاع اور انٹیلی جنس اداروں نے نامعلوم فضائی اشیاء (UFOs) اور اڑن طشتریوں سے متعلق خفیہ دستاویزات کا نیا حصہ جاری کیا ہے، جس میں متعدد مشتبہ فضائی مشاہدات کا ذکر شامل ہے۔
رپورٹ کے مطابق مختلف مواقع پر امریکی فوجی اہلکاروں، پائلٹس اور ریڈار سسٹمز نے ایسی غیر معمولی فضائی سرگرمیوں کو ریکارڈ کیا جو عام طیاروں یا معروف فضائی مظاہر سے مختلف تھیں۔ ان میں بعض اشیاء کی رفتار، سمت اور اچانک حرکت نے ماہرین کو حیران کیا۔تاہم حکام نے واضح کیا ہے کہ زیادہ تر واقعات کی ممکنہ وضاحت جدید ڈرونز، موسمی اثرات یا تکنیکی خرابیوں سے کی جا سکتی ہے، جبکہ کچھ کیسز اب بھی “غیر واضح” قرار دیے گئے ہیں کیونکہ ان کی مکمل سائنسی وضاحت سامنے نہیں آ سکی۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اب تک کوئی ایسی حتمی یا قابلِ تصدیق شہادت نہیں ملی جس سے ماورائے زمین مخلوق یا خلائی جہازوں کی موجودگی ثابت ہو سکے۔ اس کے باوجود ان واقعات کی نگرانی اور تجزیہ جاری رکھا جا رہا ہے۔ماہرین کے مطابق ان خفیہ فائلوں کے مزید حصے سامنے آنے کے بعد عوامی دلچسپی میں اضافہ ہوا ہے، جبکہ بعض حلقے مکمل شفافیت اور مزید معلومات جاری کرنے کا مطالبہ بھی کر رہے ہیں۔